میرے ابو سلامت رہیں
“اے خدا! میرے ابو سلامت رہیں”
یہ دعا گو فرشتہ بھی کل صبح مارا گیا
ظالموں نے اسے بھون ڈالا ہے کچھ اس طرح
ناک نقشہ کہاں، اس کا چہرہ بھی اک لوتھڑا ہے
لہو میں نہایا ہوا
مارنے والے کا بھی تو اس عمر کا ایک فرزند ہے
ہاتھ اٹھائے ہوئے ننھے منے سے جو
یہ دعا مانگنا بھولتا ہی نہیں
“اے خدا! میرے ابو سلامت رہیں”
یہ دعا گو فرشتہ بھی کل صبح مارا گیا
ظالموں نے اسے بھون ڈالا ہے کچھ اس طرح
ناک نقشہ کہاں، اس کا چہرہ بھی اک لوتھڑا ہے
لہو میں نہایا ہوا
مارنے والے کا بھی تو اس عمر کا ایک فرزند ہے
ہاتھ اٹھائے ہوئے ننھے منے سے جو
یہ دعا مانگنا بھولتا ہی نہیں
“اے خدا! میرے ابو سلامت رہیں”
ستیہ پال آنند
No comments:
Post a Comment