حسینوں کے تبسم کا تقاضا اور ہی کچھ ہے
مگر کلیوں کے کھلنے کا نتیجہ اور ہی کچھ ہے
نگاہیں مشتبہ ہیں میری پاکیزہ نگاہوں پر
مِرے معصوم دل پر ان کو دھوکا اور ہی کچھ ہے
حسینوں سے محبت ہے انہی پر جان دیتا ہوں
مِرا شیوہ ہے یہ لیکن زمانا اور ہی کچھ ہے
حسینوں کے تبسم کا تقاضا اور ہی کچھ ہے
مگر کلیوں کے کھلنے کا نتیجہ اور ہی کچھ ہے
نگاہیں مشتبہ ہیں میری پاکیزہ نگاہوں پر
مِرے معصوم دل پر ان کو دھوکا اور ہی کچھ ہے
حسینوں سے محبت ہے انہی پر جان دیتا ہوں
مِرا شیوہ ہے یہ لیکن زمانا اور ہی کچھ ہے
وہ جو فردوس نظر ہے آئینہ خانہ ابھی
جلوہ گر جو وہ نہ ہوں ہو جائے ویرانہ ابھی
شمع کی لو میں سما کر خود سراپا نور ہو
دور رس اتنی نہیں پروازِ پروانہ ابھی
تیرا دیوانہ ہے اس کی رفعتوں کا ذکر کیا
گرد کو جس کی نہ پہنچا کوئی فرزانہ ابھی
تِرا وحشی کچھ آگے ہے جنون فتنہ ساماں سے
کہیں دست و گریباں ہو نہ آبادی بیاباں سے
الٰہی جذبۂ دل کا اثر اتنا نہ ہو ان پر
پریشاں وہ نہ ہو جائیں مِرے حال پریشاں سے
قیامت ہے وہ آئے اور آتے ہی ہوئے واپس
یہ آثار سحر پیدا ہوئے شام غریباں سے
فرشتے بھی پہنچ سکتے نہیں وہ ہے مکاں اپنا
ٹھکانا ڈھونڈے دور زمیں و آسماں اپنا
خدا جبار ہے ہر بندہ بھی مجبور و تابع ہے
دو عالم میں نظر آیا نہ کوئی مہرباں اپنا
نگاہ مضطرب پھر ڈھونڈتی ہے کس کو ہر شے میں
زمین اپنی عزیز اپنے خدائے دو جہاں اپنا
رنگ اڑ کر رونقِ تصویر آدھی رہ گئی
غم غلط کرنے کی یہ تدبیر آدھی رہ گئی
دیکھنے والوں کی آنکھوں سے نہاں اک رخ رہا
پوری کھنچ کر بھی مِری تصویر آدھی رہ گئی
مجھ سے معیادِ اسیری کیا کرو گے پوچھ کر
دیدہ ور ہو جانچ لو، زنجیر آدھی رہ گئی
جب سبق دے انہیں آئینہ خود آرائی کا
حال کیوں پوچھیں بھلا وہ کسی سودائی کا
نقش ہی نقش وہ میری ہی جبیں سائی کا
حال کیوں پوچھیں بھلا وہ کسی سودائی کا
محو ہے عکس دو عالم مری آنکھوں میں مگر
تو نظر آتا ہے مرکز مِری بینائی کا
میری قسمت سے قفس کا یا تو در کھلتا نہیں
در جو کھلتا ہے تو بندِ بال و پر کھلتا نہیں
آہ کرتا ہوں تو آتی ہے پلٹ کر یہ صدا
عاشقوں کے واسطے بابِ اثر کھلتا نہیں
ایک ہم ہیں، رات بھر کروٹ بدلتے ہی کٹی
ایک وہ ہیں دن چڑھے تک جن کا در کھلتا نہیں
تکمیلِ عشق جب ہو کہ صحرا بھی چھوڑ دے
مجنوں خیال محمل لیلا(لیلیٰ) بھی چھوڑ دے
کچھ اقتضائے دل سے نہیں عقل بے نیاز
تنہا یہ رہ سکے تو وہ تنہا بھی چھوڑ دے
یا دیکھ زاہد! اس کو پس پردۂ مجاز
یا اعتبار دیدۂ بینا بھی چھوڑ دے