Showing posts with label سحر عشق. Show all posts
Showing posts with label سحر عشق. Show all posts

Tuesday, 22 September 2020

حسینوں کے تبسم کا تقاضا اور ہی کچھ ہے

 حسینوں کے تبسم کا تقاضا اور ہی کچھ ہے

مگر کلیوں کے کھلنے کا نتیجہ اور ہی کچھ ہے

نگاہیں مشتبہ ہیں میری پاکیزہ نگاہوں پر

مِرے معصوم دل پر ان کو دھوکا اور ہی کچھ ہے

حسینوں سے محبت ہے انہی پر جان دیتا ہوں

مِرا شیوہ ہے یہ لیکن زمانا اور ہی کچھ ہے

Monday, 21 September 2020

وہ جو فردوس نظر ہے آئینہ خانہ ابھی

 وہ جو فردوس نظر ہے آئینہ خانہ ابھی

جلوہ گر جو وہ نہ ہوں ہو جائے ویرانہ ابھی

شمع کی لو میں سما کر خود سراپا نور ہو

دور رس اتنی نہیں پروازِ پروانہ ابھی

تیرا دیوانہ ہے اس کی رفعتوں کا ذکر کیا

گرد کو جس کی نہ پہنچا کوئی فرزانہ ابھی

Sunday, 20 September 2020

ترا وحشی کچھ آگے ہے جنون فتنہ ساماں سے

 تِرا وحشی کچھ آگے ہے جنون فتنہ ساماں سے

کہیں دست و گریباں ہو نہ آبادی بیاباں سے

الٰہی جذبۂ دل کا اثر اتنا نہ ہو ان پر

پریشاں وہ نہ ہو جائیں مِرے حال پریشاں سے

قیامت ہے وہ آئے اور آتے ہی ہوئے واپس

یہ آثار سحر پیدا ہوئے شام غریباں سے

Saturday, 19 September 2020

فرشتے بھی پہنچ سکتے نہیں وہ ہے مکاں اپنا

 فرشتے بھی پہنچ سکتے نہیں وہ ہے مکاں اپنا

ٹھکانا ڈھونڈے دور زمیں و آسماں اپنا 

خدا جبار ہے ہر بندہ بھی مجبور و تابع ہے 

دو عالم میں نظر آیا نہ کوئی مہرباں اپنا 

نگاہ مضطرب پھر ڈھونڈتی ہے کس کو ہر شے میں 

زمین اپنی عزیز اپنے خدائے دو جہاں اپنا 

رنگ اڑ کر رونق تصویر آدھی رہ گئی

 رنگ اڑ کر رونقِ تصویر آدھی رہ گئی

غم غلط کرنے  کی یہ تدبیر آدھی رہ گئی

دیکھنے والوں کی آنکھوں سے نہاں اک رخ رہا

پوری کھنچ کر بھی مِری تصویر آدھی رہ گئی

مجھ سے معیادِ اسیری کیا کرو گے پوچھ کر

دیدہ ور ہو جانچ لو، زنجیر آدھی رہ گئی

جب سبق دے انہیں آئینہ خود آرائی کا

 جب سبق دے انہیں آئینہ خود آرائی کا

 حال کیوں پوچھیں بھلا وہ کسی سودائی کا

نقش ہی نقش وہ میری ہی جبیں سائی کا 

حال کیوں پوچھیں بھلا وہ کسی سودائی کا

محو ہے عکس دو عالم مری آنکھوں میں مگر

تو نظر آتا ہے مرکز مِری بینائی کا

Thursday, 17 September 2020

میری قسمت سے قفس کا یا تو در کھلتا نہیں

 میری قسمت سے قفس کا یا تو در کھلتا نہیں

در جو کھلتا ہے تو بندِ بال و پر کھلتا نہیں

آہ کرتا ہوں تو آتی ہے پلٹ کر یہ صدا

عاشقوں کے واسطے بابِ اثر کھلتا نہیں

ایک ہم ہیں، رات بھر کروٹ بدلتے ہی کٹی

ایک وہ ہیں دن چڑھے تک جن کا در کھلتا نہیں

تکمیل عشق جب ہو کہ صحرا بھی چھوڑ دے

 تکمیلِ عشق جب ہو کہ صحرا بھی چھوڑ دے 

مجنوں خیال محمل لیلا(لیلیٰ) بھی چھوڑ دے 

کچھ اقتضائے دل سے نہیں عقل بے نیاز 

تنہا یہ رہ سکے تو وہ تنہا بھی چھوڑ دے 

یا دیکھ زاہد! اس کو پس پردۂ مجاز 

یا اعتبار دیدۂ بینا بھی چھوڑ دے 

Tuesday, 27 October 2015

ادھر اس فتنے پہ چھایا شباب آہستہ آہستہ

ادھر اس فتنے پہ چھایا شباب آہستہ آہستہ
ادھر وہموں نے کھائے پیچ و تاب آہستہ آہستہ
ہو خیرِ عالم اس مستِ خرامِ ناز کے پیچھے
دبے پاؤں چلا ہے انقلاب آہستہ آہستہ
مِری وحشت نے شوقِ دید بخشا سب کو بڑھ بڑھ کر
بنے تم صاحبِ عالی جناب آہستہ آہستہ
عرق ان کی جبیں پر ہے کہ مہرِ نیم شب روشن

نظر ملا کر جھکا دے حجاب رہنے دے

نظر ملا کر جھکا دے، حجاب رہنے دے
شرابِ حسن پلا دے، شراب رہنے دے
شباب آئے گا پھر اور انہیں امنگوں سے
توہمات کے رنگین خواب رہنے دے
طہور پیتا ہوں تاروں کی چھاؤں میں ساقی
ہزار آتشہ باسی شراب رہنے دے