Showing posts with label ارجمند بانو افشاں. Show all posts
Showing posts with label ارجمند بانو افشاں. Show all posts

Wednesday, 13 March 2024

جب ستاروں کی ردا کاندھے سے سرکاتی ہے رات

 جب ستاروں کی ردا کاندھے سے سرکاتی ہے رات

چاند کے سینے سے لگ کر نور بن جاتی ہے رات

خود تڑپ کر کس قدر مجھ کو بھی تڑپاتی ہے رات

اشک شبنم جب مِری حالت پہ برساتی ہے رات

خون دل دے کر افق رنگین کر جاتی ہے رات

روشنی ہونے سے پہلے قتل ہو جاتی ہے رات

Sunday, 10 March 2024

ہم ہیں اور ضبط فغاں ہے آج کل

 ہم ہیں اور ضبط فغاں ہے آج کل

صبر کا پھر امتحاں ہے آج کل

ہم سے روٹھا ہے تو پھر کس سے ہے خوش

کس پہ آخر مہرباں ہے آج کل

دل بھی پژمردہ ہے آنکھیں مضمحل

یاد بس تیری جواں ہے آج کل

Saturday, 20 January 2024

سورج اگا تو زندگی کی شام ہو گئی

 سُورج اُگا تو زندگی کی شام ہو گئی

اب صُبح نو بھی موت کا پیغام ہو گئی

دل میں سما گئیں وہ زمانے کی نفرتیں

مہر و وفا بھی آخرش بدنام ہو گئی

انسان سارے مسجد و مندر میں بٹ گئے

انسانیت اس دور میں ناکام ہو گئی

Monday, 15 January 2024

بدلی ہوئی دنیا کی نظر دیکھ رہے ہیں

 بدلی ہوئی دنیا کی نظر دیکھ رہے ہیں

پھلتا ہوا نفرت کا شجر دیکھ رہے ہیں

بستی کے سُلگتے ہوئے گھر دیکھ رہے ہیں

دل دوز مناظر ہیں، مگر دیکھ رہے ہیں

وہ کر بھی چُکے غیر سے اقرارِ محبت

ہم بیٹھے دُعاؤں میں اثر دیکھ رہے ہیں

Tuesday, 5 April 2022

جو راہ چلنا ہے خود ہی چن لو یہاں کوئی راہبر نہیں ہے

 جو راہ چلنا ہے خود ہی چُن لو یہاں کوئی راہبر نہیں ہے

یہی حقیقت ہے بات مانو، تمہیں ابھی کچھ خبر نہیں ہے

کسی کو سادہ دلی کا بدلہ ملا ہی کب ہے، جو اب ملے گا

وفا بھی دنیا میں ایک شے ہے مگر وہ اب معتبر نہیں ہے

نجانے کب رخ ہوا بدل دے بھڑک اٹھیں پھر وہ بجھتے شعلے

ہراس ہے وہ فضا پہ طاری، کہیں بھی محفوظ گھر نہیں ہے