جب ستاروں کی ردا کاندھے سے سرکاتی ہے رات
چاند کے سینے سے لگ کر نور بن جاتی ہے رات
خود تڑپ کر کس قدر مجھ کو بھی تڑپاتی ہے رات
اشک شبنم جب مِری حالت پہ برساتی ہے رات
خون دل دے کر افق رنگین کر جاتی ہے رات
روشنی ہونے سے پہلے قتل ہو جاتی ہے رات
جب ستاروں کی ردا کاندھے سے سرکاتی ہے رات
چاند کے سینے سے لگ کر نور بن جاتی ہے رات
خود تڑپ کر کس قدر مجھ کو بھی تڑپاتی ہے رات
اشک شبنم جب مِری حالت پہ برساتی ہے رات
خون دل دے کر افق رنگین کر جاتی ہے رات
روشنی ہونے سے پہلے قتل ہو جاتی ہے رات
ہم ہیں اور ضبط فغاں ہے آج کل
صبر کا پھر امتحاں ہے آج کل
ہم سے روٹھا ہے تو پھر کس سے ہے خوش
کس پہ آخر مہرباں ہے آج کل
دل بھی پژمردہ ہے آنکھیں مضمحل
یاد بس تیری جواں ہے آج کل
سُورج اُگا تو زندگی کی شام ہو گئی
اب صُبح نو بھی موت کا پیغام ہو گئی
دل میں سما گئیں وہ زمانے کی نفرتیں
مہر و وفا بھی آخرش بدنام ہو گئی
انسان سارے مسجد و مندر میں بٹ گئے
انسانیت اس دور میں ناکام ہو گئی
بدلی ہوئی دنیا کی نظر دیکھ رہے ہیں
پھلتا ہوا نفرت کا شجر دیکھ رہے ہیں
بستی کے سُلگتے ہوئے گھر دیکھ رہے ہیں
دل دوز مناظر ہیں، مگر دیکھ رہے ہیں
وہ کر بھی چُکے غیر سے اقرارِ محبت
ہم بیٹھے دُعاؤں میں اثر دیکھ رہے ہیں
جو راہ چلنا ہے خود ہی چُن لو یہاں کوئی راہبر نہیں ہے
یہی حقیقت ہے بات مانو، تمہیں ابھی کچھ خبر نہیں ہے
کسی کو سادہ دلی کا بدلہ ملا ہی کب ہے، جو اب ملے گا
وفا بھی دنیا میں ایک شے ہے مگر وہ اب معتبر نہیں ہے
نجانے کب رخ ہوا بدل دے بھڑک اٹھیں پھر وہ بجھتے شعلے
ہراس ہے وہ فضا پہ طاری، کہیں بھی محفوظ گھر نہیں ہے