عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نعتیہ تروینی
جب بھی طوفان کوئی آیا ہے
اسم احمدﷺ زبان سے نکلا
روبرو آ گئے کئی ساحل
غزالہ انجم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نعتیہ تروینی
جب بھی طوفان کوئی آیا ہے
اسم احمدﷺ زبان سے نکلا
روبرو آ گئے کئی ساحل
غزالہ انجم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
“انؐ کے ہو کر قریبِ خُدا ہو گئے”
ہم غلامِ نبیؐ کیا سے کیا ہو گئے
آپؐ کے دم سے ہستی مہکنے لگی
ہم خزاں پوش بادِ صبا ہو گئے
آپؐ کے ذکر سے دل کو راحت ملی
سارے الفاظ حمد و ثناء ہو گئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نعتیہ تروینی
جس جگہ شام و سحر روشنی بانٹی جائے
جس جگہ تیرگئ غم نہ ٹھہرنے پائے
ایسا مینارۂ انوار نبیﷺ کا در ہے
غزالہ انجم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نعتیہ تروینی
جھلملاتے ستارے آنکھوں میں
روح میں خوشبوئیں بکھرتی ہیں
روبرو میرے سبز گنبد ہے
غزالہ انجم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نعتیہ تروینی
اک چٹائی ہے، ایک مٹکا ہے
گھر میں دو دن سے اُس کے فاقہ ہے
چاند دو ٹکڑے کر دیا جس نے
غزالہ انجم
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
ہر طرف اک عجب اداسی ہے
زرد سا ہو گیا ہے سبزہ بھی
آج تم جو نہیں ہو گلشن میں
غزالہ انجم
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
ایک انجان تپتے رستے پر
رکھ دئیے پاؤں اپنے خوابوں کے
آج آنکھیں ہیں آبلہ بردار
غزالہ انجم
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
آہٹیں دل کے سرد خانے میں
موم صورت پگھل کے گرتی ہیں
کتنا مشکل تمہیں بھلانا ہے
غزالہ انجم
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
چاند راتوں میں چاندنی بن کر
میرے آنگن میں تم اترتے ہو
ہجر آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے
غزالہ انجم
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
خود شناسائی کے عذابوں میں
زخم جب بھی گنے محبت کے
سانس لینا بھی ہو گیا مشکل
غزالہ انجم
ہوا کے دوش پر جیسے سمندر رقص کرتا ہے
زمین دل پہ جذبوں کا سخنور رقص کرتا ہے
خیال عیش و عشرت کی کشش اور قید سے باہر
لگن میں ڈوب جائے تب قلندر رقص کرتا ہے
سبھی جذبے اتر آئیں گے آخر شعر کی صورت
قلم کی نوک پر حرف معطر رقص کرتا ہے