Showing posts with label غزالہ انجم. Show all posts
Showing posts with label غزالہ انجم. Show all posts

Saturday, 27 April 2024

جب بھی طوفان کوئی آیا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نعتیہ تروینی


جب بھی طوفان کوئی آیا ہے

اسم احمدﷺ زبان سے نکلا

روبرو آ گئے کئی ساحل


غزالہ انجم

Wednesday, 31 January 2024

ہم غلام نبی کیا سے کیا ہو گئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


“انؐ کے ہو کر قریبِ خُدا ہو گئے”

ہم غلامِ نبیؐ کیا سے کیا ہو گئے

آپؐ کے دم سے ہستی مہکنے لگی

ہم خزاں پوش بادِ صبا ہو گئے

آپؐ کے ذکر سے دل کو راحت ملی

سارے الفاظ حمد و ثناء ہو گئے

Monday, 29 January 2024

ایسا مینارۂ انوار نبی کا در ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نعتیہ تروینی


جس جگہ شام و سحر روشنی بانٹی جائے

جس جگہ تیرگئ غم نہ ٹھہرنے پائے

ایسا مینارۂ انوار نبیﷺ کا در ہے


غزالہ انجم

Friday, 5 January 2024

روبرو میرے سبز گنبد ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نعتیہ تروینی


جھلملاتے ستارے آنکھوں میں

روح میں خوشبوئیں بکھرتی ہیں

روبرو میرے سبز گنبد ہے


غزالہ انجم

Monday, 1 January 2024

اک چٹائی ہے ایک مٹکا ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نعتیہ تروینی


اک چٹائی ہے، ایک مٹکا ہے

گھر میں دو دن سے اُس کے فاقہ ہے

چاند دو ٹکڑے کر دیا جس نے


غزالہ انجم

Wednesday, 12 October 2022

ہر طرف اک عجب اداسی ہے

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


ہر طرف اک عجب اداسی ہے

زرد سا ہو گیا ہے سبزہ بھی

آج تم جو نہیں ہو گلشن میں


غزالہ انجم

Sunday, 9 October 2022

ایک انجان تپتے رستے پر رکھ دئیے پاؤں

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


ایک انجان تپتے رستے پر

رکھ دئیے پاؤں اپنے خوابوں کے

آج آنکھیں ہیں آبلہ بردار


غزالہ انجم

Thursday, 6 October 2022

کتنا مشکل تمہیں بھلانا ہے

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


آہٹیں دل کے سرد خانے میں

موم صورت پگھل کے گرتی ہیں

کتنا مشکل تمہیں بھلانا ہے


غزالہ انجم

Friday, 10 June 2022

چاند راتوں میں چاندنی بن کر

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


چاند راتوں میں چاندنی بن کر

میرے آنگن میں تم اترتے ہو

ہجر آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے


غزالہ انجم

Friday, 29 April 2022

زخم جب بھی گنے محبت کے

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


خود شناسائی کے عذابوں میں

زخم جب بھی گنے محبت کے

سانس لینا بھی ہو گیا مشکل


غزالہ انجم

Saturday, 22 May 2021

ہوا کے دوش پر جیسے سمندر رقص کرتا ہے

 ہوا کے دوش پر جیسے سمندر رقص کرتا ہے

زمین دل پہ جذبوں کا سخنور رقص کرتا ہے

خیال عیش و عشرت کی کشش اور قید سے باہر

لگن میں ڈوب جائے تب قلندر رقص کرتا ہے

سبھی جذبے اتر آئیں گے آخر شعر کی صورت

قلم کی نوک پر حرف معطر رقص کرتا ہے