محبتیں تو مِلیں گو وفا مِلی نہ مِلی
سفر حسِین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی
نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز
یہ دل تھا گورِ غریباں، شمع جلی نہ جلی
عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں
کسے ہو فِکر کہ بادِ صبا چلی نہ چلی
محبتیں تو مِلیں گو وفا مِلی نہ مِلی
سفر حسِین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی
نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز
یہ دل تھا گورِ غریباں، شمع جلی نہ جلی
عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں
کسے ہو فِکر کہ بادِ صبا چلی نہ چلی
نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھی
لگے ہوئے تھے امیدوں کو میری پر پھر بھی
تمہاری یاد سے وابستہ ہے حیات مِری
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
تم اپنے گرد فصیلیں بنا کے بیٹھے ہو
ہوا تو ہو گا مِری یاد کا گزر پھر بھی
خواب پلکوں پہ مری آ کے مچل جاتے ہیں
یا کبھی بن کے گہر آنکھ سے ڈھل جاتے ہیں
مجھ کو گوشہ کوئی مانوس سا جو لگتا ہے
لوگ دیوار پہ تصویر بدل جاتے ہیں
کل وہ عالم تھا کہ اک جان تھی دو قالب تھے
آج یہ ہے کہ وہ کترا کے نکل جاتے ہیں
رات آنکھوں میں خواب آئے تھے
مسکراتے جناب آئے تھے
جس میں مرقوم تھا وفا کا سبق
پھر وہ لے کر کتاب آئے تھے
ان کے ہونٹوں نے جب غزل چھیڑی
میرے رخ پر گلاب آئے تھے
محبتیں تو ملیں، گو وفا ملی نہ ملی
سفر حسین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی
نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز
یہ دل تھا گورِ غریباں، شمع جلی نہ جلی
عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں
کسے ہو فکر کہ بادِ صبا چلی نہ چلی