Showing posts with label نکہت زیدی. Show all posts
Showing posts with label نکہت زیدی. Show all posts

Friday, 17 July 2026

یہ دل تھا گور غریباں شمع جلی نہ جلی

 محبتیں تو مِلیں گو وفا مِلی نہ مِلی

سفر حسِین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی

نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز

یہ دل تھا گورِ غریباں، شمع جلی نہ جلی

عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں

کسے ہو فِکر کہ بادِ صبا چلی نہ چلی

Tuesday, 2 December 2025

نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھی

 نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھی

لگے ہوئے تھے امیدوں کو میری پر پھر بھی

تمہاری یاد سے وابستہ ہے حیات مِری

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

تم اپنے گرد فصیلیں بنا کے بیٹھے ہو

ہوا تو ہو گا مِری یاد کا گزر پھر بھی

Wednesday, 20 August 2025

خواب پلکوں پہ مری آ کے مچل جاتے ہیں

 خواب پلکوں پہ مری آ کے مچل جاتے ہیں

یا کبھی بن کے گہر آنکھ سے ڈھل جاتے ہیں

مجھ کو گوشہ کوئی مانوس سا جو لگتا ہے

لوگ دیوار پہ تصویر بدل جاتے ہیں

کل وہ عالم تھا کہ اک جان تھی دو قالب تھے

آج یہ ہے کہ وہ کترا کے نکل جاتے ہیں

Friday, 15 August 2025

رات آنکھوں میں خواب آئے تھے

 رات آنکھوں میں خواب آئے تھے

مسکراتے جناب آئے تھے

جس میں مرقوم تھا وفا کا سبق

پھر وہ لے کر کتاب آئے تھے

ان کے ہونٹوں نے جب غزل چھیڑی

میرے رخ پر گلاب آئے تھے

Friday, 11 July 2025

سفر حسین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی

 محبتیں تو ملیں، گو وفا ملی نہ ملی

سفر حسین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی

نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز

یہ دل تھا گورِ غریباں، شمع جلی نہ جلی

عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں

کسے ہو فکر کہ بادِ صبا چلی نہ چلی