Friday, 17 July 2026

یہ دل تھا گور غریباں شمع جلی نہ جلی

 محبتیں تو مِلیں گو وفا مِلی نہ مِلی

سفر حسِین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی

نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز

یہ دل تھا گورِ غریباں، شمع جلی نہ جلی

عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں

کسے ہو فِکر کہ بادِ صبا چلی نہ چلی

تِرے وصال کے لمحوں کو مُنجمد کر لوں

شبِ فِراق کا کیا ہے ڈھلی ڈھلی نہ ڈھلی

ہمارا عشق بھی حد سے گُزرنا چاہتا ہے

کہ دل ہو محوِ تکلّم، نظر ملی نہ ملی

نہیں ہے فِکر کوئی باغبان کو نکہت

بہار آئی نہ آئی، کلی کِھلی نہ کِھلی


نکہت زیدی

یاسمین حسینی زیدی نکہت

No comments:

Post a Comment