Saturday, 4 July 2026

شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں

 شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں

حقیقت میں سبھی اپنے بدن کی دسترس میں ہیں

جمال نکہت شام و سحر بھی انجمن میں ہے

کلی بھنورے گل و بلبل چمن کی دسترس میں ہیں

مجھے پرواز کر کے آسماں میں ڈوبنا تھا، اور

مجھے یہ یاد تھا ہم سب بدن کی دسترس میں ہیں

اسیرانِ غمِ دنیا فنا کی جستجو میں ہیں

کہیں پر حضرتِ زاہد کفن کی دسترس میں ہیں

ارے اے حسن جاتا ہوں جہاں تیرے ہی چرچے ہیں

بتا کتنے دل دانا تمن کی دسترس میں ہیں


اویس گراچ

No comments:

Post a Comment