سر کھپائیں نہ زمانے والے
ہم سمجھ میں نہیں آنے والے
بارِ غم، بارِ جنوں، بارِ خِرد
ہم تو ہیں بوجھ اُٹھانے والے
کیا کہیں جان کہاں ہاری تھی
کب یہ قِصے ہیں سُنانے والے
کبھی مجنوں، کبھی فرہاد ہوئے
بستیاں چھوڑ کے جانے والے
صبح سے شام کے بازار میں ہیں
موجِ خُوں سے گُزر آنے والے
اب وہ گیسُو نہ پریشاں ہوں گے
اب وہ بادل نہیں چھانے والے
ہوشیار اے سگِ کُوئے جاناں
آ گئے رِیچھ نچانے والے
دل کی دہلیز پہ رُکتے ہی نہیں
نیند آنکھوں سے چُرانے والے
آنکھ اک بار اُٹھا کرتی ہے
پردہ چہرے سے اُٹھانے والے
ایک کردار کے حامل نکلے
مرہم و زخم لگانے والے
دل پہ اک زخم بڑھا دیتے ہیں
روز احسان جتانے والے
گھر میں رہنا ہمیں دُشوار ہُوا
اب کمانے لگے کھانے والے
کوئی باہر سے نہ آیا بابر
لُٹ گئے گھر میں گھرانے والے
بابر جاوید
No comments:
Post a Comment