خدا تو تھا مگر جلوہ نہیں تھا
تھا طُور اب کے مگر موسیٰ نہیں تھا
یہ پتہ پتہ یوں سہما نہیں تھا
یہ موسم کل تلک ایسا نہیں تھا
بِالآخر وقت مجھ پر آ پڑا وہ
مِرے پیچھے مِرا سایہ نہیں تھا
خدا تو تھا مگر جلوہ نہیں تھا
تھا طُور اب کے مگر موسیٰ نہیں تھا
یہ پتہ پتہ یوں سہما نہیں تھا
یہ موسم کل تلک ایسا نہیں تھا
بِالآخر وقت مجھ پر آ پڑا وہ
مِرے پیچھے مِرا سایہ نہیں تھا
آج محصور ہیں دیمک زدہ دیواروں میں
ہم بھی شامل تھے کبھی شہر کے معماروں میں
آخرش ہاتھ جلا ہی لیے اپنے ہم نے
جانے کیوں پھول نظر آتے تھے انگاروں میں
یہ کسی سے نہ کہا؛ لعل و جواہر تھے ہم
پتھروں کی طرح بِکتے رہے بازاروں میں
دنیائے رنگ و بُو سے کنارہ نہیں کیا
اچھا کیا جو ہم نے دکھاوا نہیں کیا
ہم جسم کو بچا نہ سکے گرد سے مگر
یہ تو کیا کہ رُوح کو میلا نہیں کیا
اوروں پر اپنی ذات کی ترجیح تو بجا
ہم نے کچھ اپنے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اک غبار سا ہر سُو غم دھواں دھواں اپنا
خوں ہے شہیدوں کا، کرب بے کراں اپنا
اور غم زمانے کے دُور دُور رہتے ہیں
اک حسینؑ کا غم ہے جب سے مہرباں اپنا
سامنے کھڑی تھی موت چہرہ چہرہ خنداں تھا
اک یقینِ محکم تھا، حق کا پاسباں اپنا
اپنی رفتار کا انداز بدل کر دیکھو
خود سے دو چار قد آگے نکل کر دیکھو
آسماں چُھونا کچھ ایسا بھی نہیں ہے مُشکل
اپنی دھرتی سے ذرا اونچا اُچھل کر دیکھو
وسعتیں راستوں میں آنکھیں بچھائے کھڑی ہیں
ذات کے خول سے باہر تو نکل کر دیکھو
ریت ہے بے کرانی ہے
اور صحرا کی کیا کہانی ہے
کھول کر دیکھ در مکانوں کے
لا مکانی ہی لا مکانی ہے
راستہ کس سے مانگتے ہو یہاں
بھیڑ نے کس کی بات مانی ہے