Showing posts with label پرتپال سنگھ بیتاب. Show all posts
Showing posts with label پرتپال سنگھ بیتاب. Show all posts

Thursday, 13 July 2023

خدا تو تھا مگر جلوہ نہیں تھا

 خدا تو تھا مگر جلوہ نہیں تھا

تھا طُور اب کے مگر موسیٰ نہیں تھا

یہ پتہ پتہ یوں سہما نہیں تھا

یہ موسم کل تلک ایسا نہیں تھا

بِالآخر وقت مجھ پر آ پڑا وہ

مِرے پیچھے مِرا سایہ نہیں تھا

Sunday, 25 June 2023

آج محصور ہیں دیمک زدہ دیواروں میں

آج محصور ہیں دیمک زدہ دیواروں میں

ہم بھی شامل تھے کبھی شہر کے معماروں میں

آخرش ہاتھ جلا ہی لیے اپنے ہم نے

جانے کیوں پھول نظر آتے تھے انگاروں میں

یہ کسی سے نہ کہا؛ لعل و جواہر تھے ہم

پتھروں کی طرح بِکتے رہے بازاروں میں

Friday, 16 June 2023

دنیائے رنگ و بو سے کنارہ نہیں کیا

 دنیائے رنگ و بُو سے کنارہ نہیں کیا

اچھا کیا جو ہم نے دکھاوا نہیں کیا

ہم جسم کو بچا نہ سکے گرد سے مگر

یہ تو کیا کہ رُوح کو میلا نہیں کیا

اوروں پر اپنی ذات کی ترجیح تو بجا

ہم نے کچھ اپنے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا

Wednesday, 14 June 2023

اک غبار سا ہر سو غم دھواں دھواں اپنا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اک غبار سا ہر سُو غم دھواں دھواں اپنا

خوں ہے شہیدوں کا، کرب بے کراں اپنا

اور غم زمانے کے دُور دُور رہتے ہیں

اک حسینؑ کا غم ہے جب سے مہرباں اپنا

سامنے کھڑی تھی موت چہرہ چہرہ خنداں تھا

اک یقینِ محکم تھا، حق کا پاسباں اپنا

اپنی رفتار کا انداز بدل کر دیکھو

 اپنی رفتار کا انداز بدل کر دیکھو

خود سے دو چار قد آگے نکل کر دیکھو

آسماں چُھونا کچھ ایسا بھی نہیں ہے مُشکل

اپنی دھرتی سے ذرا اونچا اُچھل کر دیکھو

وسعتیں راستوں میں آنکھیں بچھائے کھڑی ہیں

ذات کے خول سے باہر تو نکل کر دیکھو

Saturday, 10 June 2023

ریت ہے بیکرانی ہے

 ریت ہے بے کرانی ہے 

اور صحرا کی کیا کہانی ہے 

کھول کر دیکھ در مکانوں کے 

لا مکانی ہی لا مکانی ہے 

راستہ کس سے مانگتے ہو یہاں 

بھیڑ نے کس کی بات مانی ہے