Showing posts with label سرور جاوید. Show all posts
Showing posts with label سرور جاوید. Show all posts

Tuesday, 2 August 2022

صلیب ساتھ لیے غم کی رات ساتھ لیے

 صلیب ساتھ لیے غم کی رات ساتھ لیے

بلا کی پیاس گزاری فرات ساتھ لیے

میں کیسی کیسی تمناؤں کا اسیر رہا

تمہارے نام کی فردِ نجات ساتھ لیے

اب آ گیا ہوں ترے پاس ہاتھ خالی ہیں

چلا تھا تیری طرف کائنات ساتھ لیے

Sunday, 20 March 2022

کیسی سرشاری کے عالم میں ہوں آیا ہوا میں

 کیسی سرشاری کے عالم میں ہوں آیا ہوا میں

اپنے اندوہِ محبت میں سمایا ہوا میں

ہجر تھا جس کی فسوں کاری و خود رائی میں

عرصۂ عشق پہ اک عمر تھا چھایا ہوا میں

جب بھی لاتی ہے ہوا اس کے بدن کی خوشبو

پھر سے جل اٹھتا ہوں مدت سے بجھایا ہوا میں

Monday, 14 March 2022

بچھڑ جانا تھا سو چہرہ تمہارا دیکھنا تھا

 بچھڑ جانا تھا، سو چہرہ تمہارا دیکھنا تھا

سفر در پیش تھا،۔ اپنا ستارہ دیکھنا تھا

تمہارے ساتھ سُکھ کی منزلوں پہ ہم نہ ہوں گے

کہ ہم وہ لوگ ہیں، جن کو خسارہ دیکھنا تھا

مِری آنکھوں کو بینائی سے بڑھ کر کچھ عطا کر

اندھیرا کس نے سپنوں میں اتارا؟ دیکھنا تھا

Sunday, 13 March 2022

طلب کے رنگ نئے فاصلوں کے وار نئے

 طلب کے رنگ نئے فاصلوں کے وار نئے

شکستِ عشق نے بخشے ہیں کاروبار نئے

میں اس ساتھ بھی بے خال و خد رہا برسوں

شباہتوں کو دئیے جس نے اعتبار نئے

ابھی سے کیا ہو گرانباریوں کا اندازہ

دیارِ عشق میں آئے ہیں بے دیار نئے

Saturday, 12 March 2022

کون جانے وہ رخ مہر کہاں روشن تھا

 کون جانے وہ رخِ مہر کہاں روشن تھا 

قریۂ عشق میں امکانِ زیاں روشن تھا

اس لیے خواہشِ تعبیر نہیں ہے ہم کو

خواب جو چھوڑ گیا دل پہ نشاں روشن تھا

پھر بھی بستی سے اندھیرا نہیں چھٹنے پاتا

گرچہ کار سحر شیشہ گراں روشن تھا