صلیب ساتھ لیے غم کی رات ساتھ لیے
بلا کی پیاس گزاری فرات ساتھ لیے
میں کیسی کیسی تمناؤں کا اسیر رہا
تمہارے نام کی فردِ نجات ساتھ لیے
اب آ گیا ہوں ترے پاس ہاتھ خالی ہیں
چلا تھا تیری طرف کائنات ساتھ لیے
صلیب ساتھ لیے غم کی رات ساتھ لیے
بلا کی پیاس گزاری فرات ساتھ لیے
میں کیسی کیسی تمناؤں کا اسیر رہا
تمہارے نام کی فردِ نجات ساتھ لیے
اب آ گیا ہوں ترے پاس ہاتھ خالی ہیں
چلا تھا تیری طرف کائنات ساتھ لیے
کیسی سرشاری کے عالم میں ہوں آیا ہوا میں
اپنے اندوہِ محبت میں سمایا ہوا میں
ہجر تھا جس کی فسوں کاری و خود رائی میں
عرصۂ عشق پہ اک عمر تھا چھایا ہوا میں
جب بھی لاتی ہے ہوا اس کے بدن کی خوشبو
پھر سے جل اٹھتا ہوں مدت سے بجھایا ہوا میں
بچھڑ جانا تھا، سو چہرہ تمہارا دیکھنا تھا
سفر در پیش تھا،۔ اپنا ستارہ دیکھنا تھا
تمہارے ساتھ سُکھ کی منزلوں پہ ہم نہ ہوں گے
کہ ہم وہ لوگ ہیں، جن کو خسارہ دیکھنا تھا
مِری آنکھوں کو بینائی سے بڑھ کر کچھ عطا کر
اندھیرا کس نے سپنوں میں اتارا؟ دیکھنا تھا
طلب کے رنگ نئے فاصلوں کے وار نئے
شکستِ عشق نے بخشے ہیں کاروبار نئے
میں اس ساتھ بھی بے خال و خد رہا برسوں
شباہتوں کو دئیے جس نے اعتبار نئے
ابھی سے کیا ہو گرانباریوں کا اندازہ
دیارِ عشق میں آئے ہیں بے دیار نئے
کون جانے وہ رخِ مہر کہاں روشن تھا
قریۂ عشق میں امکانِ زیاں روشن تھا
اس لیے خواہشِ تعبیر نہیں ہے ہم کو
خواب جو چھوڑ گیا دل پہ نشاں روشن تھا
پھر بھی بستی سے اندھیرا نہیں چھٹنے پاتا
گرچہ کار سحر شیشہ گراں روشن تھا