Showing posts with label گوہر جان. Show all posts
Showing posts with label گوہر جان. Show all posts

Sunday, 18 February 2024

لب حاسد پہ بھی ہے سوز ترنم لا ریب

 لکھ کے ملکہ نے جو چھپوایا یہ دلچسپ کلام

لبِ حاسد پہ بھی ہے سوزِ ترنم لا ریب

فکر تاریخ کی جب ہونے لگی گوہر

رنگ لائے گی بہت موج تبسم لا ریب

نہ ملے گا کہیں تاریخ کا کوسوں جو پتا

ہوں گے اس راہ میں سب ہوش و خرد گم لا ریب

Sunday, 4 February 2024

آئیے اے جان عالم آئیے

 آئیے اے جانِ عالم آئیے

اپنے بندے پر کرم فرمائیے

عید آئی اور گیا ماہِ صیّام

چاند سا منہ آپ تو دِکھلائیے

سال بھر گُزرا اُمیدِ وصل میں

عید کا دن ہے گلے لگ جائیے

Friday, 22 December 2023

جب سے ہے تجھ سے آنکھ ستمگر لگی ہوئی

 جب سے ہے تجھ سے آنکھ ستمگر! لگی ہوئی

اک آگ سی جگر مییں ہے، دلبر! لگی ہوئی

جب سے ہُوا ہے مجھ سے تیرا عشق، ماہ رُو

اک آگ سی جگر کے ہے اندر لگی ہوئی

جاتی نہیں یہ جان، نا آتی ہے اس قدر

کیسی یہ چوٹ ہے میرے دل پر لگی ہوئی

Monday, 13 February 2023

دل میں بے چینی سر بستر راحت ہو گی

 دل میں بے چینی سرِ بستر راحت ہو گی

اس قدر وصل کی مشتاق طبیعت ہو گی

لاکھ ارمان بھرے حشر میں ہوں گے پامال

چھوٹے سے سِن میں بھی رفتار قیامت ہو گی

دو بھی بوسے جو مجھے نام خدا پر دو گے

اس سے کچھ کم تو نہیں حسن کی دولت ہو گی

Sunday, 12 February 2023

یا خدا محو ثنا گبر و مسلماں ہیں ترے

 یا خدا! محوِ ثناء گبر و مسلماں ہیں تِرے

کون عالم میں ہے جس پر نہیں احساں ہیں ترے

جن و انسان و ملک بحر و بر و ارض و سماء

تُو وہ سلطان ہے کہ سب تابعِ فرمان ہیں ترے

صبح دم گلشنِ ایجاد میں مرغانِ چمن

ہیں چہکتے نہیں دراصل ثنا خواں ہیں ترے