لکھ کے ملکہ نے جو چھپوایا یہ دلچسپ کلام
لبِ حاسد پہ بھی ہے سوزِ ترنم لا ریب
فکر تاریخ کی جب ہونے لگی گوہر
رنگ لائے گی بہت موج تبسم لا ریب
نہ ملے گا کہیں تاریخ کا کوسوں جو پتا
ہوں گے اس راہ میں سب ہوش و خرد گم لا ریب
لکھ کے ملکہ نے جو چھپوایا یہ دلچسپ کلام
لبِ حاسد پہ بھی ہے سوزِ ترنم لا ریب
فکر تاریخ کی جب ہونے لگی گوہر
رنگ لائے گی بہت موج تبسم لا ریب
نہ ملے گا کہیں تاریخ کا کوسوں جو پتا
ہوں گے اس راہ میں سب ہوش و خرد گم لا ریب
آئیے اے جانِ عالم آئیے
اپنے بندے پر کرم فرمائیے
عید آئی اور گیا ماہِ صیّام
چاند سا منہ آپ تو دِکھلائیے
سال بھر گُزرا اُمیدِ وصل میں
عید کا دن ہے گلے لگ جائیے
جب سے ہے تجھ سے آنکھ ستمگر! لگی ہوئی
اک آگ سی جگر مییں ہے، دلبر! لگی ہوئی
جب سے ہُوا ہے مجھ سے تیرا عشق، ماہ رُو
اک آگ سی جگر کے ہے اندر لگی ہوئی
جاتی نہیں یہ جان، نا آتی ہے اس قدر
کیسی یہ چوٹ ہے میرے دل پر لگی ہوئی
دل میں بے چینی سرِ بستر راحت ہو گی
اس قدر وصل کی مشتاق طبیعت ہو گی
لاکھ ارمان بھرے حشر میں ہوں گے پامال
چھوٹے سے سِن میں بھی رفتار قیامت ہو گی
دو بھی بوسے جو مجھے نام خدا پر دو گے
اس سے کچھ کم تو نہیں حسن کی دولت ہو گی
یا خدا! محوِ ثناء گبر و مسلماں ہیں تِرے
کون عالم میں ہے جس پر نہیں احساں ہیں ترے
جن و انسان و ملک بحر و بر و ارض و سماء
تُو وہ سلطان ہے کہ سب تابعِ فرمان ہیں ترے
صبح دم گلشنِ ایجاد میں مرغانِ چمن
ہیں چہکتے نہیں دراصل ثنا خواں ہیں ترے