Showing posts with label انجم سہارنپوری. Show all posts
Showing posts with label انجم سہارنپوری. Show all posts

Monday, 8 December 2025

آہ یہ ہجر کے لمحات تمہیں کیا معلوم

آہ یہ ہجر کے لمحات تمہیں کیا معلوم

شعلہ زن ہیں مِرے جذبات تمہیں کیا معلوم

تم نے ساحل سے ہی دیکھے ہیں سفینے سب کے

ڈوبنے والوں کے حالات تمہیں کیا معلوم

تم تو واقف ہی نہیں زہر کی لذت سے ابھی

کیسے کٹتی ہے مِری رات تمہیں کیا معلوم

Thursday, 15 May 2025

چمن میں رہ کے بھی دل کو اگر قرار نہیں

 چمن میں رہ کے بھی دل کو اگر قرار نہیں

تو یہ بہار کی توہین ہے بہار نہیں

تمہارا حسن جو پھولوں سے آشکار نہیں

مِری نگاہ بھی شرمندۂ بہار نہیں

حضور آپ کے وعدوں کا کیا یقیں آئے

یہاں تو زیست پہ بھی اپنی اعتبار نہیں

Wednesday, 12 May 2021

خوشی دے کے وہ مجھ کو غم دے رہے ہیں

خوشی دے کے وہ مجھ کو غم دے رہے ہیں

مسلسل فریبِ کرم دے رہے ہیں

بڑا خوب صورت ہے پیمانِ الفت

مجھی کو وہ میری قسم دے رہے ہیں

یہ طرزِ محبت مبارک ہو تم کو

تمہیں لوگ دادِ ستم دے رہے ہیں

Monday, 26 April 2021

مسیحا کی نظر مایوس بیماروں سے الجھی ہے

مسیحا کی نظر مایوس بیماروں سے الجھی ہے

قیامت کن شکستہ حال دیواروں سے الجھی ہے

تِری دنیا کا یا رب کیا بگاڑا ہے غریبوں نے

تِری دنیا بھی ہم تقدیر کے ماروں سے الجھی ہے

ہماری زندگی کیا ہے جہان رنج و راحت ہے

کبھی پھولوں سے لپٹی ہے کبھی خاروں سے الجھی ہے