آہ یہ ہجر کے لمحات تمہیں کیا معلوم
شعلہ زن ہیں مِرے جذبات تمہیں کیا معلوم
تم نے ساحل سے ہی دیکھے ہیں سفینے سب کے
ڈوبنے والوں کے حالات تمہیں کیا معلوم
تم تو واقف ہی نہیں زہر کی لذت سے ابھی
کیسے کٹتی ہے مِری رات تمہیں کیا معلوم
آہ یہ ہجر کے لمحات تمہیں کیا معلوم
شعلہ زن ہیں مِرے جذبات تمہیں کیا معلوم
تم نے ساحل سے ہی دیکھے ہیں سفینے سب کے
ڈوبنے والوں کے حالات تمہیں کیا معلوم
تم تو واقف ہی نہیں زہر کی لذت سے ابھی
کیسے کٹتی ہے مِری رات تمہیں کیا معلوم
چمن میں رہ کے بھی دل کو اگر قرار نہیں
تو یہ بہار کی توہین ہے بہار نہیں
تمہارا حسن جو پھولوں سے آشکار نہیں
مِری نگاہ بھی شرمندۂ بہار نہیں
حضور آپ کے وعدوں کا کیا یقیں آئے
یہاں تو زیست پہ بھی اپنی اعتبار نہیں
خوشی دے کے وہ مجھ کو غم دے رہے ہیں
مسلسل فریبِ کرم دے رہے ہیں
بڑا خوب صورت ہے پیمانِ الفت
مجھی کو وہ میری قسم دے رہے ہیں
یہ طرزِ محبت مبارک ہو تم کو
تمہیں لوگ دادِ ستم دے رہے ہیں
مسیحا کی نظر مایوس بیماروں سے الجھی ہے
قیامت کن شکستہ حال دیواروں سے الجھی ہے
تِری دنیا کا یا رب کیا بگاڑا ہے غریبوں نے
تِری دنیا بھی ہم تقدیر کے ماروں سے الجھی ہے
ہماری زندگی کیا ہے جہان رنج و راحت ہے
کبھی پھولوں سے لپٹی ہے کبھی خاروں سے الجھی ہے