Wednesday, 12 May 2021

خوشی دے کے وہ مجھ کو غم دے رہے ہیں

خوشی دے کے وہ مجھ کو غم دے رہے ہیں

مسلسل فریبِ کرم دے رہے ہیں

بڑا خوب صورت ہے پیمانِ الفت

مجھی کو وہ میری قسم دے رہے ہیں

یہ طرزِ محبت مبارک ہو تم کو

تمہیں لوگ دادِ ستم دے رہے ہیں

یہ دنیا جنہیں راہزن کہہ رہی ہے

مِرا ساتھ تو کم سے کم دے رہے ہیں

تکلف سہی دنیا والوں سے تم کو

مگر اب تو آواز ہم دے رہے ہیں

میں ان کی جوانی پہ مائل ہوں انجم

مجھے لوگ کیوں جامِ جم دے رہے ہیں


انجم سہارنپوری

No comments:

Post a Comment