Showing posts with label زاہد فخری. Show all posts
Showing posts with label زاہد فخری. Show all posts

Friday, 19 January 2024

دلوں سے غم مٹاتا ہے محمد نام ایسا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دلوں سے غم مٹاتا ہے محمدﷺ نام ایسا ہے

نگر اُجڑے بساتا ہے محمدﷺ نام ایسا ہے

انہی کے نام سے پائی فقیروں نے شہنشاہی

خُدا سے بھی ملاتا ہے محمدﷺ نام ایسا ہے

انہی کے ذکر سے روشن راتیں پھر لوٹ آتی ہیں

نصیبوں کو جگاتا ہے محمدﷺ نام ایسا ہے

Saturday, 8 January 2022

کاش وہ چہرہ میری آنکھ نے دیکھا ہوتا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کاش وہؐ چہرہ میری آنکھ نے دیکھا ہوتا

مجھ کو تقدیر نے اس دور میں لکھا ہوتا

باتیں سنتا میں کبھی پوچھتا معنی انؐ کے

آپؐ کے سامنے اصحاب میں بیٹھا ہوتا

ہر سیاہ رات میں سورج ہیں حدیثیں ان کی

وہﷺ نہ آتے تو زمانے میں اندھیرا ہوتا

Sunday, 21 November 2021

کاش سرکار دو عالم کا زمانہ ملتا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ساری صدیوں پہ جو بھاری ہے وہ لمحہ ملتا

کاش سرکارﷺ دو عالم کا زمانہ ملتا

آپﷺ کو دیکھتا طائف میں دعائیں دیتے

یوں مِرے صبر و تحمل کو سلیقہ ملتا

آپؐ کے پیچھے کھڑے ہو کے نمازیں پڑھتا

آپؐ کے قدموں کے پیچھے مجھے سجدہ ملتا

Thursday, 7 October 2021

یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے

ہر اک موجِ بلا کی راہ میں حائل مدینہ ہے

مدینے کے مسافر تجھ پہ میرے جان و دل قربان

تیری آنکھیں بتاتی ہیں، تیری منزل مدینہ ہے

زمانہ دھوپ ہے اور چھاؤں ہے بس اک بستی میں

یہ دنیا جل کے بجھ جاتی، مگر شامل مدینہ ہے

Sunday, 6 September 2020

نہ کھاتا اگر میں تو تکرار کیا تھی

مزاحیہ غزل

نہ کھاتا اگر میں تو تکرار کیا تھی
مگر کچھ پکاتے ہوئے عار کیا تھی
کیا ہم کو برباد میک اپ نے تیرے
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی
میاں بیوی میں تھی اگر کوئی ان بن
تو گھر میں بچوں کی بھرمار کیا تھی؟

محبت کر کے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکا ہے

محبت کر کے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکا ہے 
(مزاحیہ)
شوہر
تجھے کشمیر سمجھا تھا مگر تھرپارکر نکلا
نہ اماں تیری افسر ہیں، نہ ابا ڈاکٹر نکلا
تِرے اس حسن کے پیچھے بیوٹی پارلر نکلا
میں نیلے لینس میں ڈوبا تو جا کر کاشغر نکلا
نہ جھمکے تیرے اصلی ہیں نہ اصلی تیرا کوکا ہے
محبت کر کے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکا ہے

ایک نہیں ہم پہ کئی وار کرے گا

ایک نہیں ہم پہ کئی وار کرے گا
ہر بار نئے لشکری تیار کرے گا
بپھرے ہوئے دریا سے بھی پہرے نہ اٹھانا
وہ لمحۂ غفلت میں اسے پار کرے گا
ہر نیند کے موسم میں ہمیں جاگنا ہو گا
مودی ہے کسی وقت بھی یلغار کرے گا

Saturday, 5 September 2020

ہر ایک رت میں اداس نسلوں ‌نے خواب دیکھے

ہر ایک رُت میں اداس نسلوں ‌نے خواب دیکھے
وطن میں فصلِ بہار دیکھی، گلاب دیکھے
ہر ایک موسم کی ایک جیسی شبیہ دیکھی
سبھی درختوں پہ ایک جیسے عذاب دیکھے
جو بند آنکھوں سے بارشوں میں نہا رہے تھے
کھلی جو آنکھیں تو دشت دیکھا سراب دیکھے

Friday, 4 September 2020

میں کہ افسردہ مکانوں میں رہوں

میں کہ افسردہ مکانوں میں رہوں
آج بھی گزرے زمانوں میں رہوں
رات ہے سر پر کوئی سورج نہیں
کس لیے پھر سائبانوں میں رہوں
کیا وسیلہ ہو مِرے اظہار کا
لفظ ہوں گونگی زبانوں میں رہوں

Thursday, 3 September 2020

محبت کے سفر میں کوئی بھی رستہ نہیں دیتا

محبت کے سفر میں کوئی بھی رستا نہیں دیتا
زمیں واقف نہیں بنتی، فلک سایا نہیں دیتا
خوشی اور دکھ کے موسم سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں
کسی کو اپنے حصے کا کوئی لمحہ نہیں دیتا
نہ جانے کون ہوتے ہیں جو بازو تھام لیتے ہیں
مصیبت میں سہارا کوئی بھی اپنا نہیں دیتا

پتھر کس کو مارو گے جب ان کے سر بھی اپنے ہیں

پتھر کس کو مارو گے جب ان کے سر بھی اپنے ہیں
سانجھی ہیں دیواریں سب کی، سارے گھر بھی اپنے ہیں
ایسی الجھی باتیں مت کر ، دیکھ یہ بستی اپنی ہے
خوشبو بن کر دستک دینا، بام و در بھی اپنے ہیں
جلتے پتھر پر بیٹھے ہو، گھر کی جانب لوٹ آؤ
شام کے سائے دُور ہیں اور پھر تیرے پر بھی اپنے ہیں

ہمارے خواب کا منظر بدلنے والا ہے

ہمارے خواب کا منظر بدلنے والا ہے
چراغ رہنے دو سورج نکلنے والا ہے
شبِ سیاہ کا خیمہ اکھڑنے والا ہے
سرائے جاں میں سویرا اترنے والا ہے
ہمارے اشک بھی اب رائیگاں نہ جائیں گے
یہ سیل تجھ کو بہا کر گزرنے والا ہے

Wednesday, 8 August 2012

اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقف حال تھا

اسے اپنے فردا کی فِکر تھی، وہ جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اُس کی صبحِ عروج تھی، وہی میرا وقتِ زوال تھا
میرا درد کیسے وہ جانتا، میری بات کیسے وہ مانتا
وہ تو خود فنا کے سفر پہ تھا، اسے روکنا بھی محال تھا
کہاں جاؤ گے مجھے چھوڑ کر، میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گیا
وہ جواب مجھ کو نہ دے سکا، وہ تو خود سراپا سوال تھا

Monday, 6 August 2012

چہرے پہ اپنا دست کرم پھیرتی ہوئی

چہرے پہ اپنا دستِ کرم پھیرتی ہوئی
ماں رو پڑی ہے سَر کو مِرے چومتی ہوئی
اب کتنے دن رہو گے مِرے پاس تم یہاں
تھکتی نہیں ہے مجھ سے یہی پوچھتی ہوئی
رہتی ہے جاگتی وہ مِری نیند کے لیے
بچوں کو مجھ سے دور پرے روکتی ہوئی