ہوئی ہے مات، لیکن مات سے آگے بہت کچھ ہے
یہ بس اک بات تھی اس بات سے آگے بہت کچھ ہے
اگر تم میرے اندر سے گزر پاؤ تو دیکھو گے
مِرے اندر ہی میری ذات سے آگے بہت کچھ ہے
شبِ فرقت سے کوئی بچ نہ پایا آج تک، ورنہ
ہمیں لگتا تو ہے اس رات سے آگے بہت کچھ ہے
ہوئی ہے مات، لیکن مات سے آگے بہت کچھ ہے
یہ بس اک بات تھی اس بات سے آگے بہت کچھ ہے
اگر تم میرے اندر سے گزر پاؤ تو دیکھو گے
مِرے اندر ہی میری ذات سے آگے بہت کچھ ہے
شبِ فرقت سے کوئی بچ نہ پایا آج تک، ورنہ
ہمیں لگتا تو ہے اس رات سے آگے بہت کچھ ہے
کیوں اس کو سمجھ میں یہ اشارے نہیں آتے
گر خشک ہوں تالاب،🐦 پرندے نہیں آتے
سج دھج کے مِرے دل میں اترتے ہو سرِ شام
ویران گھروں میں کبھی ایسے نہیں آتے
اک ساتھ سبھی کچھ تو نہیں ملتا یہاں پر
پھل آئیں جو حصے میں تو سائے نہیں آتے
میں جنت سے اس پر نکالا گیا تھا
مِرے منہ میں بس اک نوالا گیا تھا
تُو وہ بات ہے دب کے جو رہ گئی ہے
میں وہ قِصہ ہوں جو اچھالا گیا تھا
دھماکا ہوا تھا اندھیرے میں جس دم
بڑی دُور تک پھر اُجالا گیا تھا
دل ہے کہ دِیا ہے، کیا ہے آخر
کچھ جل تو رہا ہے، کیا ہے آخر
شاید یہ کمال ہجر کا ہو
کیوں درد اٹھا ہے، کیا ہے آخر
کچھ بھی تو رقیب میں نہیں ہے
کیوں اس کا ہوا ہے، کیا ہے آخر
اگر آپ ہم کو ستانے لگیں گے
تو ہم اور بھی مسکرانے لگیں گے
مِرے دل کے اندر جو لمحے میں اترا
اسے بھولنے میں زمانے لگیں گے
اگر دیکھ لے اک جھلک ان کی تُو بھی
تِرے ہوش بھی پھر ٹھکانے لگیں گے