Showing posts with label نوید ناظم. Show all posts
Showing posts with label نوید ناظم. Show all posts

Wednesday, 7 September 2022

ہوئی ہے مات لیکن مات سے آگے بہت کچھ ہے

 ہوئی ہے مات، لیکن مات سے آگے بہت کچھ ہے

یہ بس اک بات تھی اس بات سے آگے بہت کچھ ہے

اگر تم میرے اندر سے گزر پاؤ تو دیکھو گے

مِرے اندر ہی میری ذات سے آگے بہت کچھ ہے

شبِ فرقت سے کوئی بچ نہ پایا آج تک، ورنہ

ہمیں لگتا تو ہے اس رات سے آگے بہت کچھ ہے

Saturday, 27 August 2022

کیوں اس کو سمجھ میں یہ اشارے نہیں آتے

 کیوں اس کو سمجھ میں یہ اشارے نہیں آتے

گر خشک ہوں تالاب،🐦 پرندے نہیں آتے

سج دھج کے مِرے دل میں اترتے ہو سرِ شام

ویران گھروں میں کبھی ایسے نہیں آتے

اک ساتھ سبھی کچھ تو نہیں ملتا یہاں پر

پھل آئیں جو حصے میں تو سائے نہیں آتے

میں جنت سے اس پر نکالا گیا تھا

 میں جنت سے اس پر نکالا گیا تھا

مِرے منہ میں بس اک نوالا گیا تھا

تُو وہ بات ہے دب کے جو رہ گئی ہے

میں وہ قِصہ ہوں جو اچھالا گیا تھا

دھماکا ہوا تھا اندھیرے میں جس دم

بڑی دُور تک پھر اُجالا گیا تھا

Friday, 26 August 2022

دل ہے کہ دیا ہے کیا ہے آخر

 دل ہے کہ دِیا ہے، کیا ہے آخر

کچھ جل تو رہا ہے، کیا ہے آخر

شاید یہ کمال ہجر کا ہو

کیوں درد اٹھا ہے، کیا ہے آخر

کچھ بھی تو رقیب میں نہیں ہے

کیوں اس کا ہوا ہے، کیا ہے آخر

Monday, 2 May 2022

اگر آپ ہم کو ستانے لگیں گے

 اگر آپ ہم کو ستانے لگیں گے

تو ہم اور بھی مسکرانے لگیں گے

مِرے دل کے اندر جو لمحے میں اترا

اسے بھولنے میں زمانے لگیں گے

اگر دیکھ لے اک جھلک ان کی تُو بھی

تِرے ہوش بھی پھر ٹھکانے لگیں گے