ہوئی ہے مات، لیکن مات سے آگے بہت کچھ ہے
یہ بس اک بات تھی اس بات سے آگے بہت کچھ ہے
اگر تم میرے اندر سے گزر پاؤ تو دیکھو گے
مِرے اندر ہی میری ذات سے آگے بہت کچھ ہے
شبِ فرقت سے کوئی بچ نہ پایا آج تک، ورنہ
ہمیں لگتا تو ہے اس رات سے آگے بہت کچھ ہے
مِرے حالات سن کر رو پڑے ہو تم، ذرا ٹھہرو
مجھے کہنے تو دو حالات سے آگے بہت کچھ ہے
پریشاں ہو گئے ہو میری آنکھوں کے برسنے سے
نمونہ تھا یہ، اس برسات سے آگے بہت کچھ ہے
ارے اک جام تو ساقی یونہی خیرات میں دے گا
مگر مت بھولنا خیرات سے آگے بہت کچھ ہے
اسے جذبات کا اک کھیل لگتی تھی محبت، سو
وہ کہہ کر چل دیا؛ جذبات سے آگے بہت کچھ ہے
نوید ناظم
No comments:
Post a Comment