Showing posts with label طارق بٹ. Show all posts
Showing posts with label طارق بٹ. Show all posts

Thursday, 22 April 2021

وحشتوں میں ایک وحشت نام کی

 وحشتوں میں ایک وحشت نام کی

اور پھر اس کاوشِ ناکام کی

وہم کی صورت گری کرتی ہے یہ

ٹمٹماتی لو چراغِ بام کی

وجد میں رقصاں دِیے کی روشنی

روشنی میں گونج اک پیغام کی

Wednesday, 14 December 2016

وہ مری خوش لباس کیسی ہے

وہ مِری خوش لباس کیسی ہے
اس کے تن کی کپاس کیسی ہے
جس نے ہر سو زمین کی سیراب
اس سمندر کی پیاس کیسی ہے
جسے کوئی زمیں محبت کی
کبھی آئی نہ راس، کیسی ہے

خامشی رنگ ہوئی جاتی ہے دھیرے دھیرے

خامشی رنگ ہوئی جاتی ہے دھیرے دھیرے
ایک تصویر بنی جاتی ہے دھیرے دھیرے
وقت کے سیل میں یہ خواب سی بہتی ساعت
خود ہی تعبیر ہوئی جاتی ہے دھیرے دھیرے
زندگی تجھ کو کوئی کیسے کرے تیز قدم
بادۂ تلخ تو پی جاتی ہے دھیرے دھیرے

Sunday, 23 November 2014

اپنے اندر کے اندھیروں کو مرے ساتھ نہ کر

اپنے اندر کے اندھیروں کو مِرے ساتھ نہ کر
دل نہ مانے جو تِرا مجھ سے ملاقات نہ کر
اک اجالا سا رہے پچھلی ملاقاتوں کا
بدگمانی کی گھٹاؤں سے یہاں رات نہ کر
دیکھ! ڈھ جائیں گے یہ کچے گھروندے دل کے
اتنی شدت سے تو خدشات کی برسات نہ کر

دیوار کھینچے جاتا ہے در کر نہیں رہا

دیوار کھینچے جاتا ہے، در کر نہیں رہا
کیا ہو گیا ہے دل کو، خبر کر نہیں رہا
تم جو شرر سا دیکھتے ہو میری راکھ میں
وہ شعلگی کی سمت سفر کر نہیں رہا
افسردۂ بہار ہوا ایسا یہ شجر
مدت گزر گئی ہے ثمر کر نہیں رہا

فریب خود کو دیا خود ہی آہ و زاری کی

فریب خود کو دیا خود ہی آہ و زاری کی
مثال ہے کہیں ایسی فریب کاری کی
ہمارا عہدِ وفا حرف حرف روشن تھا
تمہارا عہدِ وفا شرطِ رازداری کی
ہوا ہے خوگرِ رنج و ملال، شہر تمام
سو ہم نے رسم اٹھا دی ہے غمگساری کی

کہیں تو چھوڑ گیا ہو گا کچھ نشاں اپنے

کہیں تو چھوڑ گیا ہو گا کچھ نشاں اپنے
وہ اک فسانہ سا گزرا جو درمیاں اپنے
ہوئے جو گنگ بدلتی رتوں کی حیرت سے
وہ جذبے ہوں گے کبھی آپ ترجماں اپنے
یہ بے زباں تو نہیں ان کی خامشی کو سمجھ
نشان چھوڑ گئے ہیں جو رفتگاں اپنے

پوریں زخمی ہو جاتی ہیں، تار سے تار ملانے میں

پَوریں زخمی ہو جاتی ہیں، تار سے تار ملانے میں
گِرہ لگاتے ریشم سے رشتوں کے تانے بانے میں
پوچھتے ہیں وہ، تم کو کسی کا ساتھ نہیں اچھا لگتا
فرق نہ سمجھیں رشتوں کے اپنانے اور نبھانے میں
بڑے ہی پرفن ہوتے ہیں یہ بھولے بھالے دکھتے لوگ
کیسا کیسا بھٹکاتے ہیں اپنی بات سجھانے میں

Wednesday, 4 December 2013

یہ جاں کہ فرصت غم سے بھی ہاتھ دھو گئی ہے

یہ جاں کہ فرصتِ غم سے بھی ہاتھ دھو گئی ہے
 بھلا چکی تھی تجھے، آج خود کو رو گئی ہے
 ہمیں بھی تجھ سا تغافل شعار بننا تھا
 یہ بات کاش نہ ہوتی، مگر یہ ہو گئی ہے
 بہت سے دن گئے وہ رُت نہ لوٹ کر آئی
 جو آئی جب کبھی، دامن بھگو بھگو گئی ہے

صورت ارض سماوات میں اپنے لیے بھی

صورتِ ارض سماوات میں اپنے لیے بھی
اِک ستارہ کہیں اس رات میں اپنے لیے بھی
نِگہ رہتی ہے تِرے سولہ سنگھاروں کی طرف
ہو اشارہ جو کسی بات میں اپنے لیے بھی
جانے کس رُوپ کرے گھات عدوئے اذلی
سات کنکر ہیں مِرے ہات میں اپنے لیے بھی

Saturday, 7 July 2012

ہے کس کا انتظار کھلا گھر کا در بھی ہے

ہے کس کا انتظار کھلا گھر کا در بھی ہے
اور جلتا اک چراغ سرِ رہگزر بھی ہے 
ہر لمحہ گھر کو لوٹ کے جانے کا بھی خیال
ہر لمحہ اس خیال سے دل کو حذر بھی ہے
تنہائیاں پکارتی رہتی ہیں، آؤ، آؤ
اے بیکسی بتا! کہیں اس سے مفر بھی ہے

عجب آدمی تھا یہ قیس بھی بڑا کام کر کے چلا گیا

عجب آدمی تھا یہ قیس بھی، بڑا کام کر کے چلا گیا
تھا کمال اس کو جنون میں، سو تمام کر کے چلا گیا
رہیں دشت میں بھی رمیدہ خُو، پِھریں آ کے شہر میں کُوبکُو
کوئی بے سکوں، یہاں بے سکونی کو عام کر کے چلا گیا
کوئی بات ایسی ہوئی تو ہے، کہ وہ موج موج سا آدمی
جو یُوں، تیغِ تیز سی زندگی کو نیام کر کے چلا گیا