سمندروں میں سمندر تھا بیکرانی تھی
کنارے چلنا تھا، ناؤ نہیں چلانی تھی
ںچھڑتے وقت تمہیں کس پتے کا سمجھاتے
ہمارے بخت میں صدیوں کی لامکانی تھی
اگرچہ باغ میں رونق تھی تتلیاں کر کے
مگر یہ ساری گلابوں کی مہربانی تھی
سمندروں میں سمندر تھا بیکرانی تھی
کنارے چلنا تھا، ناؤ نہیں چلانی تھی
ںچھڑتے وقت تمہیں کس پتے کا سمجھاتے
ہمارے بخت میں صدیوں کی لامکانی تھی
اگرچہ باغ میں رونق تھی تتلیاں کر کے
مگر یہ ساری گلابوں کی مہربانی تھی
جل پری
وہ سمندر سے باہر نہیں آ رہی
اور سمندر سے میری بنی ہی نہیں
کل اماوس کی شب تھی
سمندر بڑے چین سے سو رہا تھا
میں اس جل پری سے ملا اور کہا؛
محبت
سنو محبت کا واسطہ ہے
محبت اک خواب کا جزیرہ
جزیرے اندر تمام وحشی
تمام وحشی مِرے قبیلے کو کھا چکے ہیں
میں آخری جھیل کا کنارہ
کسی پرندے کی کُو کُو اُداس کر دے گی
گلاب توڑا تو خوشبو اداس کر دے گی
کسے خبر تھی تِرا ہجر مار ڈالے گا
مجھے لگا تھا مجھے تُو اداس کر دے گی
اندھیری رات میں بُجھتے ہوئے چراغ کی لو
تمہاری آنکھوں کے جُگنو اداس کر دے گی
کب تک در و دیوار کی بندش میں رہا جائے
چل سانوری اُٹھ چل کے کہیں سانس لیا جائے
یہ جسم تِرا ریشمی دھاگوں سے بنا ہے
اک تار بھی کھینچوں تو اُدھڑتا ہی چلا جائے
اک آتشِ نوخیز کہ ہے سخت گریزاں
اِک خواہشِ مہمیز، ہمہ وقت جلا جائے
زنجیر تو دنیا کو پریشان کرے گی
دیوانے پہ دیوانگی احسان کرے گی
کچرے سے اٹھا لائے گی اک چاند سا چہرہ
رحمت کے فرشتوں کو پشیمان کرے گی
سر دھرنے کو زانوئے موافق نہ ملے گا
یوں نیند مجھے اور بھی ہلکان کرے گی
جہاں ہے چھاؤں میسر وہی مرا گھر ہے
درخت ہو کے بھی تُو مجھ سے پوچھتا گھر ہے
یہ بات الگ ہے یہاں کوئی بھی نہیں رہتا
گزرنے والے تو کہتے ہیں، واہ کیا گھر ہے
پھر ایک اور پرندہ چلا گیا گھر سے
پھر ایک اور پرندے کا کھو گیا گھر ہے