Showing posts with label ازرم اسلام. Show all posts
Showing posts with label ازرم اسلام. Show all posts

Friday, 14 July 2023

سمندروں میں سمندر تھا بیکرانی تھی

 سمندروں میں سمندر تھا بیکرانی تھی

کنارے چلنا تھا، ناؤ نہیں چلانی تھی

ںچھڑتے وقت تمہیں کس پتے کا سمجھاتے

ہمارے بخت میں صدیوں کی لامکانی تھی

اگرچہ باغ میں رونق تھی تتلیاں کر کے

مگر یہ ساری گلابوں کی مہربانی تھی

Saturday, 10 July 2021

جل پری اب سمندر سے باہر نکل یا مجھے بھول جا

 جل پری


وہ سمندر سے باہر نہیں آ رہی

اور سمندر سے میری بنی ہی نہیں

کل اماوس کی شب تھی

سمندر بڑے چین سے سو رہا تھا

میں اس جل پری سے ملا اور کہا؛

Tuesday, 6 July 2021

سنو محبت کا واسطہ ہے

 محبت


سنو محبت کا واسطہ ہے

محبت اک خواب کا جزیرہ

جزیرے اندر تمام وحشی

تمام وحشی مِرے قبیلے کو کھا چکے ہیں

میں آخری جھیل کا کنارہ

Thursday, 1 July 2021

کسی پرندے کی کو کو اداس کر دے گی

 کسی پرندے کی کُو کُو اُداس کر دے گی 

گلاب توڑا تو خوشبو اداس کر دے گی

کسے خبر تھی تِرا ہجر مار ڈالے گا 

مجھے لگا تھا مجھے تُو اداس کر دے گی

اندھیری رات میں بُجھتے ہوئے چراغ کی لو

تمہاری آنکھوں کے جُگنو اداس کر دے گی

Wednesday, 30 June 2021

کب تک در و دیوار کی بندش میں رہا جائے

 کب تک در و دیوار کی بندش میں رہا جائے

چل سانوری اُٹھ چل کے کہیں سانس لیا جائے

یہ جسم تِرا ریشمی دھاگوں سے بنا ہے

اک تار بھی کھینچوں تو اُدھڑتا ہی چلا جائے

اک آتشِ نوخیز کہ ہے سخت گریزاں

اِک خواہشِ مہمیز، ہمہ وقت جلا جائے

Tuesday, 29 June 2021

زنجیر تو دنیا کو پریشان کرے گی

 زنجیر تو دنیا کو پریشان کرے گی

دیوانے پہ دیوانگی احسان کرے گی

کچرے سے اٹھا لائے گی اک چاند سا چہرہ

رحمت کے فرشتوں کو پشیمان کرے گی

سر دھرنے کو زانوئے موافق نہ ملے گا

یوں نیند مجھے اور بھی ہلکان کرے گی

Monday, 7 December 2020

جہاں ہے چھاؤں میسر وہی مرا گھر ہے

جہاں ہے چھاؤں میسر وہی مرا گھر ہے

درخت ہو کے بھی تُو مجھ سے پوچھتا گھر ہے

یہ بات الگ ہے یہاں کوئی بھی نہیں رہتا

گزرنے والے تو کہتے ہیں، واہ کیا گھر ہے

پھر ایک اور پرندہ چلا گیا گھر سے

پھر ایک اور پرندے کا کھو گیا گھر ہے