Showing posts with label حفیظ جالندھری. Show all posts
Showing posts with label حفیظ جالندھری. Show all posts

Thursday, 29 June 2023

محمد مصطفیٰ محبوب داور سرور عالم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


محمد مصطفیٰﷺ محبوبِ داور، سرورِ عالم​

وہ جس کے دم سے مسجودِ ملائک بن گیا آدم​

کیا ساجد کو شیدا جس نے مسجودِ حقیقی پر​

جھکایا عبد کو درگاہِ معبودِ حقیقیﷻ پر​

دلائے حق پرستوں کو حقوقِ زندگی جس نے​

کیا باطل کو غرقِ موجۂ شرمندگی جس نے

Friday, 16 December 2022

وہ ابر جو مے خوار کی تربت پہ نہ برسے

وہ ابر جو مے خوار کی تربت پہ نہ برسے

 کہہ دو کہ خدارا کبھی گزرے نہ ادھر سے

اتنا تو ہوا آہِ شبِ غم کے اثر سے

فطرت کا جگر پھوٹ بہا چشمِ سحر سے

امید نے بھی یاس کے مردوں کو پکارا

آئی کوئی آواز نہ دل سے نہ جگر سے

Sunday, 19 September 2021

جھگڑا دانے پانی کا ہے دام و قفس کی بات نہیں

جھگڑا دانے پانی کا ہے، دام و قفس کی بات نہیں

اپنے بس کی بات نہیں، صیّاد کے بس کی بات نہیں

جان سے پیارے یار ہمارے قیدِ وفا سے چھوٹ گئے

سارے رشتے ٹوٹ گئے، اک تارِ نفس کی بات نہیں

تیرا پھولوں کا بستر بھی راہگزارِ سیل میں ہے

آقا، اب یہ بندے ہی کے خار و خس کی بات نہیں

Wednesday, 19 May 2021

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا

 کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا 

کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا 

مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا

کوئی بھی تو دکھاؤ منزل پر 

جس کو دیکھا ہو رہنما کے سوا

Sunday, 9 May 2021

کل ضرور آؤ گے لیکن آج کیا کروں

 کل ضرور آؤ گے لیکن آج کیا کروں

بڑھ رہا ہے قلب کا اختلاج کیا کروں

کیا کروں کوئی نہیں احتیاجِ دوست کو

اور مجھ کو دوست کی احتیاج کیا کروں

اب وہ فکر مند ہیں کہہ دیا طبیب نے

عشق ہے جنوں نہیں میں علاج کیا کروں

Sunday, 1 November 2020

کسی کے روبرو بیٹھا رہا میں بے زباں ہو کر

 کسی کے روبرو بیٹھا رہا میں بے زباں ہو کر

مِری آنکھوں سے حسرت پھوٹ نکلی داستاں ہو کر

خدا حافظ کسی کے راز الفت کا خدا حافظ

خیال آتے ہی اب تو دل دھڑکتا ہے فغاں ہو کر

پیا آب بقاء اے خضر اب تاثیر بھی دیکھو

قیامت تک رہو پابند عمر جاوداں ہو کر

Tuesday, 14 January 2020

شیروں کو آزادی ہے

آزادی

شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں‌
جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں‌ پییں آنند رہیں‌
شاہیں کو آزادی ہے، آزادی سے پرواز کرے
ننھی منی چڑیوں پر جب چاہے مشقِ ناز کرے
سانپوں کو آزادی ہے ہر بستے گھر میں بسنے کی
ان کے سر میں زہر بھی ہے اور عادت بھی ہے ڈسنے کی

عشق نے حسن کی بے داد پہ رونا چاہا

عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہا
تخمِ احساسِ وفا، سنگ میں بونا چاہا
آنے والے کسی طوفان کا رونا رو کر
ناخدا نے مجھے ساحل پہ ڈبونا چاہا
سنگدل کیوں نہ کہیں بتکدے والے مجھ کو
میں نے پتھر کا پرستار نہ ہونا چاہا

موت کے چہرے پہ ہے کیوں مردنی چھائی ہوئی

موت کے چہرے پہ ہے کیوں مُردنی چھائی ہوئی 
دیکھنا کون آ گیا؟ کیوں ٹل گئی آئی ہوئی 
کوئی بدلی تو نہیں ابھری افق پر دیکھنا؟
پھر فضائے توبہ پر ہے بے دلی چھائی ہوئی 
سیکھ دنیا ہی میں زاہد حور سے ملنے کے ڈھنگ 
ورنہ روئے گا کہ جنت میں بھی رسوائی ہوئی 

Tuesday, 31 December 2019

تیرے بغیر کچھ بھی نہ بھاۓ تو کیا کروں

دل سے تِرا خیال نہ جائے تو کیا کروں
میں کیا کروں کوئی نہ بتائے تو کیا کروں
امید دل نشیں سہی، دنیا حسیں سہی
تیرے بغیر کچھ بھی نہ بھائے تو کیا کروں
دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا
کمبخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں ​

اے دوست مِٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں ​
اس دردِ دوستی کی دوا ہو گیا ہوں میں ​
قائم کِیا ہے میں نے فنا کے وجود کو ​
دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں ​
نا آشنا ہیں رتبۂ دیوانگی سے دوست ​
کمبخت جانتے نہیں، کیا ہو گیا ہوں میں​

چھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئی

عرضِ ہنر بھی وجہِ شکایات ہو گئی
چھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئی
دُشنام کا جواب نہ سُوجھا بجُز سلام
ظاہر مِرے کلام کی اوقات ہو گئی
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

Monday, 16 July 2018

آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے

 آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے 

آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے 

زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیں 

موت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے 

میری پیشانی پہ اک سجدہ تو ہے لکھا ہوا 

یہ نہیں معلوم ہے کس آستانے کے لیے 

Wednesday, 16 November 2016

رنگ بدلا یار کا وہ پیار کی باتیں گئیں

رنگ بدلا یار کا، وہ پیار کی باتیں گئیں
وہ ملاقاتیں گئیں، وہ چاندنی راتیں گئیں
پی تو لیتا ہوں مگر پینے کی وہ باتیں گئیں
وہ جوانی، وہ سیہ مستی، وہ برساتیں گئیں
اللہ، اللہ، کہہ کے بس اک آہ کرنا رہ گیا
وہ نمازیں، وہ دعائیں، وہ مناجاتیں گئیں

Tuesday, 15 November 2016

دل ابھی تک جوان ہے پیارے

دل ابھی تک جوان ہے پیارے
کس مصیبت میں جان ہے پیارے
رات کم ہے نہ چھیڑ ہجر کی بات
یہ بڑی داستان ہے پیارے
تلخ کر دی ہے زندگی جس نے
کتنی میٹھی زبان ہے پیارے

آ ہی گیا وہ مجھ کو لحد میں اتارنے

آ ہی گیا وہ مجھ کو لحد میں اتارنے
غفلت ذرا نہ کی مِرے غفلت شعار نے
اب تک اسیرِ دامِ فریبِ حیات ہوں
مجھ کو بھلا دیا مِرے پروردگار نے
او بے نصیب دن کے تصور سے خوش نہ ہو
چولا بدل لیا ہے شبِ انتظار نے

تو بھی کسی کا پیار نہ پائے خدا کرے

تُو بھی کسی کا پیار نہ پائے خدا کرے
تجھ کو تیرا نصیب رلائے خدا کرے
راتوں میں تجھ کو نیند نہ آئے خدا کرے
تُو دربدر کی ٹھوکریں کھائے خدا کرے
تجھ پر شب وصال کی راتیں حرام ہوں
شمعیں جلا جلا کہ بجھائے خدا کرے

Thursday, 30 June 2016

مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہئے

مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے
پیتے ہی ایک لغرشِ مستانہ چاہیے
ہاں احترامِ کعبہ و بت خانہ چاہیے
مذہب کی پوچھئے تو جداگانہ چاہیے
رندانِ مے پرست سیہ مست ہی سہی
اے شیخ! گفتگو تو شریفانہ چاہیے

وہ ہوئے پردہ نشیں انجمن آرا ہو کر

وہ ہوئے پردہ نشیں انجمن آرا ہو کر
رہ گیا میں ہمہ تن چشمِ تمنا ہو کر
حسن نے عشق پہ حیرت کی نگاہیں ڈالیں
خود تماشا ہوئے ہم محوِ تماشا ہو کر
آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا
ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات، یاد نہ تم کو آ سکے
تم نے ہمیں بھُلا دیا، ہم نہ تمہیں بھُلا سکے
تم ہی نہ سن سکے اگر، قصۂ غم سنے گا کون
کس کی زباں کھُلے گی پھر، ہم نہ اگر سنا سکے
ہوش میں آ چکے تھے ہم، جوش میں آ چکے تھے ہم
بزم کا رنگ دیکھ کر، سر نہ مگر اٹھا سکے