عرضِ غم کو ہنر چاہیے
دل کی صورت نظر چاہیے
ایک دیوار ہے زندگی
کوئی شوریدہ سر چاہیے
واعظو، ناصحو، دوستو
پہلے اپنی خبر چاہیے
عرضِ غم کو ہنر چاہیے
دل کی صورت نظر چاہیے
ایک دیوار ہے زندگی
کوئی شوریدہ سر چاہیے
واعظو، ناصحو، دوستو
پہلے اپنی خبر چاہیے
دیکھے ہیں جو غم، دل سے بُھلائے نہیں جاتے
اِک عمر ہُوئی یاد کے سائے نہیں جاتے
اشکوں سے خبردار کہ آنکھوں سے نہ نکلیں
گر جائیں یہ موتی تو اٹھائے نہیں جاتے
ہر جُنبشِ دامانِ جنوں جانِ ادب ہے
اس راہ میں آداب سِکھائے نہیں جاتے
دل کو غم راس ہے یوں گُل کو صبا ہو جیسے
اب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے
ہر نفس حلقۂ زنجیر نظر آتا ہے
زندگی جُرمِ تمنا کی سزا ہو جیسے
کان بجتے ہیں سکوتِ شبِ تنہائی میں
وہ خموشی ہے کہ اک حشر بپا ہو جیسے
یادیں چلیں، خیال چلا، اشکِ تر چلے
لے کر پیامِ شوق کئی نامہ بر چلے
دل کو سنبھالتے رہے ہر حادثے پہ ہم
اب کیا کریں کہ خود تِرے گیسو بکھر چلے
ہر گام پہ شکست نے یوں حوصلہ دیا
جس طرح ساتھ ساتھ کوئی ہمسفر چلے
لائے گا رنگ ضبط فغاں دیکھتے رہو
پھوٹے گی ہر کلی میں زباں دیکھتے رہو
برپا سرِ حیات ہے اک حشر دار و گیر
دیتا ہے کون کس کو اماں دیکھتے رہو
دم بھر کو آستان تمنا پہ ہے ہجوم
جائے بچھڑ کے کون کہاں دیکھتے رہو
ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے
تیری گلی سے آ کے صبا بھی ہوا میں ہے
اے عشق تیری دوسری منزل بھی ہے کہیں
مرنا ہے ابتدا میں تو کیا انتہا میں ہے
لاتی ہے جب صبا تو چمکتے ہیں بام و در
یہ روشنی سی کیا تِری بوئے قبا میں ہے
پاسِ ناموسِ تمنا ہر اک آزار میں تھا
نشۂ نکہتِ گل بھی خلشِ خار میں تھا
کس سے کہیے کہ زمانے کو گراں گزرا ہے
وہ فسانہ کہ مِری حسرتِ گفتار میں تھا
دل کہ آتا ہی نہیں ترکِ تمنا کی طرف
کوئی اقرار کا پہلو تِرے انکار میں تھا
دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے
اک عمر ہوئی یاد کے سائے نہیں جاتے
اشکوں سے خبردار کہ آنکھوں سے نہ نکلیں
گر جائیں یہ موتی تو اٹھائے نہیں جاتے
ہر جنبشِ دامانِ جنوں جانِ ادب ہے
اس راہ میں آداب سکھائے نہیں جاتے