Showing posts with label ہوش ترمذی. Show all posts
Showing posts with label ہوش ترمذی. Show all posts

Thursday, 12 August 2021

عرض غم کو ہنر چاہیے

 عرضِ غم کو ہنر چاہیے

دل کی صورت نظر چاہیے

ایک دیوار ہے زندگی

کوئی شوریدہ سر چاہیے

واعظو، ناصحو، دوستو

پہلے اپنی خبر چاہیے

Monday, 22 March 2021

دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے

 دیکھے ہیں جو غم، دل سے بُھلائے نہیں جاتے

اِک عمر ہُوئی یاد کے سائے نہیں جاتے

اشکوں سے خبردار کہ آنکھوں سے نہ نکلیں

گر جائیں یہ موتی تو اٹھائے نہیں جاتے

ہر جُنبشِ دامانِ جنوں جانِ ادب ہے

اس راہ میں آداب سِکھائے نہیں جاتے

Monday, 15 March 2021

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے

 دل کو غم راس ہے یوں گُل کو صبا ہو جیسے

اب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے

ہر نفس حلقۂ زنجیر نظر آتا ہے

زندگی جُرمِ تمنا کی سزا ہو جیسے

کان بجتے ہیں سکوتِ شبِ تنہائی میں

وہ خموشی ہے کہ اک حشر بپا ہو جیسے

Friday, 12 March 2021

یادیں چلیں خیال چلا اشک تر چلے

 یادیں چلیں، خیال چلا، اشکِ تر چلے

لے کر پیامِ شوق کئی نامہ بر چلے

دل کو سنبھالتے رہے ہر حادثے پہ ہم

اب کیا کریں کہ خود تِرے گیسو بکھر چلے

ہر گام پہ شکست نے یوں حوصلہ دیا

جس طرح ساتھ ساتھ کوئی ہمسفر چلے

Wednesday, 10 March 2021

لائے گا رنگ ضبط فغاں دیکھتے رہو

 لائے گا رنگ ضبط فغاں دیکھتے رہو

پھوٹے گی ہر کلی میں زباں دیکھتے رہو

برپا سرِ حیات ہے اک حشر دار و گیر

دیتا ہے کون کس کو اماں دیکھتے رہو

دم بھر کو آستان تمنا پہ ہے ہجوم

جائے بچھڑ کے کون کہاں دیکھتے رہو

Tuesday, 9 March 2021

ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے

 ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے

تیری گلی سے آ کے صبا بھی ہوا میں ہے

اے عشق تیری دوسری منزل بھی ہے کہیں

مرنا ہے ابتدا میں تو کیا انتہا میں ہے

لاتی ہے جب صبا تو چمکتے ہیں بام و در

یہ روشنی سی کیا تِری بوئے قبا میں ہے

Monday, 8 March 2021

پاس ناموس تمنا ہر اک آزار میں تھا

 پاسِ ناموسِ تمنا ہر اک آزار میں تھا

نشۂ‌ نکہتِ گل بھی خلشِ خار میں تھا

کس سے کہیے کہ زمانے کو گراں گزرا ہے

وہ فسانہ کہ مِری حسرتِ گفتار میں تھا

دل کہ آتا ہی نہیں ترکِ تمنا کی طرف

کوئی اقرار کا پہلو تِرے انکار میں تھا

دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے

 دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے

اک عمر ہوئی یاد کے سائے نہیں جاتے

اشکوں سے خبردار کہ آنکھوں سے نہ نکلیں

گر جائیں یہ موتی تو اٹھائے نہیں جاتے

ہر جنبشِ دامانِ جنوں جانِ ادب ہے

اس راہ میں آداب سکھائے نہیں جاتے