Showing posts with label اسحٰق اثر. Show all posts
Showing posts with label اسحٰق اثر. Show all posts

Monday, 14 April 2025

بات تو جب ہے کہانی پاؤں کے چھالے کہیں

 بات تو جب ہے کہانی پاؤں کے چھالے کہیں

حال سارا منہ زبانی پاؤں کے چھالے کہیں

چل مگر اگلے سفر کی ایک یہ بھی شرط ہے

ہر قدم کی جاں فشانی پاؤں کے چھالے کہیں

میں سناؤں گا ٹھہر کر داستاں تفصیل سے

تب تلک کربِ نہانی پاؤں کے چھالے کہیں

Saturday, 22 March 2025

کسی کی راہنمائی قبول کیا کرتے

 کسی کی راہنمائی قبول کیا کرتے

ہمارے عہد میں آ کر رسول کیا کرتے

جو دستکوں کے لیے دل کے در تلک آیا

ہم اس کرم کا کوئی عرض و طول کیا کرتے

کسی کی یاد میں رونا تو اک فریضہ تھا

مری کتاب کے مرجھائے پھول کیا کرتے

Wednesday, 12 February 2025

دیے جلیں گے بجھیں گے ہوا کے آگے بھی

 دیے جلیں گے بجھیں گے ہوا کے آگے بھی

قدم تو رک نہیں سکتے فنا کے آگے بھی

خودی کا سجدہ نہ پہنچا درِ الٰہی تک

اڑا ہوا تھا کوئی سرِ انا کے آگے بھی

فقط زمین کی خبریں نہیں ہیں اپنے پاس

نگاہ رکھتے ہیں تحت الثریٰ کے آگے بھی

Sunday, 7 November 2021

یاد جب آیا کوئی بچھڑا ہوا

یاد جب آیا کوئی بچھڑا ہوا

زخم دل کا اور بھی گہرا ہوا

ہم بھی اپنے وقت کے بگڑے ہوئے

وہ بھی اپنے وقت کا ٹوٹا ہوا

ٹوٹنا تھا دل پرائے ہاتھ سے

آپ سے ٹوٹا چلو اچھا ہوا

Monday, 25 October 2021

بستی میں زندگی کے نشاں تک نہیں رہے

بستی میں زندگی کے نشاں تک نہیں رہے

ایسی ہوا چلی کہ مکاں تک نہیں رہے

سیلاب ساتھ لے گیا ساحل کو اس لیے

تنکوں سے مِرا ربط وہاں تک نہیں رہے

سورج ہنسا تو رات کے سائے تمام تر

یوں مٹ گئے کہ ان کے نشاں تک نہیں رہے