بات تو جب ہے کہانی پاؤں کے چھالے کہیں
حال سارا منہ زبانی پاؤں کے چھالے کہیں
چل مگر اگلے سفر کی ایک یہ بھی شرط ہے
ہر قدم کی جاں فشانی پاؤں کے چھالے کہیں
میں سناؤں گا ٹھہر کر داستاں تفصیل سے
تب تلک کربِ نہانی پاؤں کے چھالے کہیں
بات تو جب ہے کہانی پاؤں کے چھالے کہیں
حال سارا منہ زبانی پاؤں کے چھالے کہیں
چل مگر اگلے سفر کی ایک یہ بھی شرط ہے
ہر قدم کی جاں فشانی پاؤں کے چھالے کہیں
میں سناؤں گا ٹھہر کر داستاں تفصیل سے
تب تلک کربِ نہانی پاؤں کے چھالے کہیں
کسی کی راہنمائی قبول کیا کرتے
ہمارے عہد میں آ کر رسول کیا کرتے
جو دستکوں کے لیے دل کے در تلک آیا
ہم اس کرم کا کوئی عرض و طول کیا کرتے
کسی کی یاد میں رونا تو اک فریضہ تھا
مری کتاب کے مرجھائے پھول کیا کرتے
دیے جلیں گے بجھیں گے ہوا کے آگے بھی
قدم تو رک نہیں سکتے فنا کے آگے بھی
خودی کا سجدہ نہ پہنچا درِ الٰہی تک
اڑا ہوا تھا کوئی سرِ انا کے آگے بھی
فقط زمین کی خبریں نہیں ہیں اپنے پاس
نگاہ رکھتے ہیں تحت الثریٰ کے آگے بھی
یاد جب آیا کوئی بچھڑا ہوا
زخم دل کا اور بھی گہرا ہوا
ہم بھی اپنے وقت کے بگڑے ہوئے
وہ بھی اپنے وقت کا ٹوٹا ہوا
ٹوٹنا تھا دل پرائے ہاتھ سے
آپ سے ٹوٹا چلو اچھا ہوا
بستی میں زندگی کے نشاں تک نہیں رہے
ایسی ہوا چلی کہ مکاں تک نہیں رہے
سیلاب ساتھ لے گیا ساحل کو اس لیے
تنکوں سے مِرا ربط وہاں تک نہیں رہے
سورج ہنسا تو رات کے سائے تمام تر
یوں مٹ گئے کہ ان کے نشاں تک نہیں رہے