Showing posts with label سہیل ملک. Show all posts
Showing posts with label سہیل ملک. Show all posts

Sunday, 5 September 2021

آ ہی جائے سحر خموشی سے

 آ ہی جائے سحر خموشی سے

ڈھونڈ لے میرا در خموشی سے

کیجیۓ ہم پہ کچھ کرم اپنا

کہہ رہی ہے نظر خموشی سے

چند لمحے جو پاس بیٹھے تھے

کر گئے ہیں اثر خموشی سے

Tuesday, 31 August 2021

دلوں کو جوڑنا ہے روح کو تسخیر کرنا ہے

 دلوں کو جوڑنا ہے روح کو تسخیر کرنا ہے

نیا دستورِ عمرانی ہمیں تحریر کرنا ہے

حق و باطل کا ہے یہ معرکہ ثابت قدم رہنا

ہر اک شیطان کو ابلیس کو نخچیر کرنا ہے

اٹھیں اس قوم کے مزدور اور معمار پھر جاگیں

ہے بکھرا آشیاں اپنا، اسے تعمیر کرنا ہے

Friday, 27 August 2021

فکر نا پیدا کراں دیکھ مجھے

 فکرِ نا پیدا کراں دیکھ مجھے

زورِ پروازِ گماں دیکھ مجھے

سوزِ رفتارِ زماں دیکھ مجھے

ہے یہ بس میرا جہاں دیکھ مجھے

ہے نظر لائقِ دیدار کہاں

دیکھ لے اُس کا نشاں دیکھ مجھے

دور منزل کہاں اب رہی دوستو

 دور منزل کہاں اب رہی دوستو

اک رکاوٹ ہے یہ آخری دوستو

گر ہے مخلص، ہے سچا تو لبیک ہے

اک نڈر کی ہو اب رہبری دوستو

آج آرام کا ذکر اچھا نہیں

بے کلی دوستو، تندہی دوستو

Saturday, 21 November 2020

جو سراب زندگی پر ہمیں اعتبار ہوتا

 جو سرابِ زندگی پر ہمیں اعتبار ہوتا

یہ ترنمِ بہاراں کہاں ناگوار ہوتا

نہ فغاں پہ بار ہوتا سوئے کارزار ہوتا

دلِ زار گر نہ ہوتا دلِ بے قرار ہوتا

مجھے کم نوائی لاحق تجھے زعمِ بے نیازی

کبھی موسمِ تکلّم یہاں سازگار ہوتا