آ ہی جائے سحر خموشی سے
ڈھونڈ لے میرا در خموشی سے
کیجیۓ ہم پہ کچھ کرم اپنا
کہہ رہی ہے نظر خموشی سے
چند لمحے جو پاس بیٹھے تھے
کر گئے ہیں اثر خموشی سے
آ ہی جائے سحر خموشی سے
ڈھونڈ لے میرا در خموشی سے
کیجیۓ ہم پہ کچھ کرم اپنا
کہہ رہی ہے نظر خموشی سے
چند لمحے جو پاس بیٹھے تھے
کر گئے ہیں اثر خموشی سے
دلوں کو جوڑنا ہے روح کو تسخیر کرنا ہے
نیا دستورِ عمرانی ہمیں تحریر کرنا ہے
حق و باطل کا ہے یہ معرکہ ثابت قدم رہنا
ہر اک شیطان کو ابلیس کو نخچیر کرنا ہے
اٹھیں اس قوم کے مزدور اور معمار پھر جاگیں
ہے بکھرا آشیاں اپنا، اسے تعمیر کرنا ہے
فکرِ نا پیدا کراں دیکھ مجھے
زورِ پروازِ گماں دیکھ مجھے
سوزِ رفتارِ زماں دیکھ مجھے
ہے یہ بس میرا جہاں دیکھ مجھے
ہے نظر لائقِ دیدار کہاں
دیکھ لے اُس کا نشاں دیکھ مجھے
دور منزل کہاں اب رہی دوستو
اک رکاوٹ ہے یہ آخری دوستو
گر ہے مخلص، ہے سچا تو لبیک ہے
اک نڈر کی ہو اب رہبری دوستو
آج آرام کا ذکر اچھا نہیں
بے کلی دوستو، تندہی دوستو
جو سرابِ زندگی پر ہمیں اعتبار ہوتا
یہ ترنمِ بہاراں کہاں ناگوار ہوتا
نہ فغاں پہ بار ہوتا سوئے کارزار ہوتا
دلِ زار گر نہ ہوتا دلِ بے قرار ہوتا
مجھے کم نوائی لاحق تجھے زعمِ بے نیازی
کبھی موسمِ تکلّم یہاں سازگار ہوتا