Showing posts with label تحسین منور. Show all posts
Showing posts with label تحسین منور. Show all posts

Sunday, 1 February 2026

گماں مجھ کو تھا انساں ہو گیا ہوں

 گماں مجھ کو تھا انساں ہو گیا ہوں

خبر کیا تھی میں شیطاں ہو گیا ہوں

ہوا کچھ اس طرح کی چل رہی ہے

بہت اندر سے ویراں ہو گیا ہوں

اچانک دوست ہندو ہو گئے ہیں

اچانک میں مسلماں ہو گیا ہوں

Tuesday, 26 August 2025

چلو جو پیار کرتے ہیں انہیں ماریں

پیار کے نام


 چلو جو پیار کرتے ہیں

انہیں ماریں، انہیں پیٹیں

انہیں قدموں تلے روندیں

انہیں پامال کر ڈالیں

اگر ہوں پھول ہاتھوں میں

تو کانٹے بھی چبھائیں ہم

Sunday, 3 August 2025

مال و اسباب بیچ ڈالیں گے

 مال و اسباب بیچ ڈالیں گے

مجھ کو احباب بیچ ڈالیں گے

وہ جو بازار کے کھلاڑی ہیں

تیرا ہر خواب بیچ ڈالیں گے

کل تو سوکھے کو بیچ ڈالا تھا

اب کے سیلاب بیچ ڈالیں گے

Tuesday, 17 June 2025

نہ کوئی ٹھور ٹھکانہ کدھر گیا ہو گا

 نہ کوئی ٹھور ٹھکانہ کدھر گیا ہو گا

یہاں سے اٹھ کے دیوانہ کدھر گیا ہو گا

تم اپنی ترچھی نگاہوں کے وار جانتے ہو

تمہیں خبر ہے نشانہ کدھر گیا ہو گا

کوئی رقیب نہیں ہے تو پھر بتائے کوئی

وہ کر کے ہم سے بہانہ کدھر گیا ہو گا

Sunday, 15 June 2025

اب کوئی جیت نہیں ہار نہیں کچھ بھی نہیں

 اب کوئی جیت نہیں ہار نہیں کچھ بھی نہیں

میں جہاں ہوں وہاں سنسار نہیں کچھ بھی نہیں

ایک عالم کی خبر مجھ کو ہوئی جاتی ہے

میں خبردار، نہ ہشیار نہیں کچھ بھی نہیں

ایک جیسے ہیں مگر پھر بھی جدا ہیں سارے

درمیاں ہے کوئی دیوار نہیں کچھ بھی نہیں