گماں مجھ کو تھا انساں ہو گیا ہوں
خبر کیا تھی میں شیطاں ہو گیا ہوں
ہوا کچھ اس طرح کی چل رہی ہے
بہت اندر سے ویراں ہو گیا ہوں
اچانک دوست ہندو ہو گئے ہیں
اچانک میں مسلماں ہو گیا ہوں
گماں مجھ کو تھا انساں ہو گیا ہوں
خبر کیا تھی میں شیطاں ہو گیا ہوں
ہوا کچھ اس طرح کی چل رہی ہے
بہت اندر سے ویراں ہو گیا ہوں
اچانک دوست ہندو ہو گئے ہیں
اچانک میں مسلماں ہو گیا ہوں
پیار کے نام
چلو جو پیار کرتے ہیں
انہیں ماریں، انہیں پیٹیں
انہیں قدموں تلے روندیں
انہیں پامال کر ڈالیں
اگر ہوں پھول ہاتھوں میں
تو کانٹے بھی چبھائیں ہم
مال و اسباب بیچ ڈالیں گے
مجھ کو احباب بیچ ڈالیں گے
وہ جو بازار کے کھلاڑی ہیں
تیرا ہر خواب بیچ ڈالیں گے
کل تو سوکھے کو بیچ ڈالا تھا
اب کے سیلاب بیچ ڈالیں گے
نہ کوئی ٹھور ٹھکانہ کدھر گیا ہو گا
یہاں سے اٹھ کے دیوانہ کدھر گیا ہو گا
تم اپنی ترچھی نگاہوں کے وار جانتے ہو
تمہیں خبر ہے نشانہ کدھر گیا ہو گا
کوئی رقیب نہیں ہے تو پھر بتائے کوئی
وہ کر کے ہم سے بہانہ کدھر گیا ہو گا
اب کوئی جیت نہیں ہار نہیں کچھ بھی نہیں
میں جہاں ہوں وہاں سنسار نہیں کچھ بھی نہیں
ایک عالم کی خبر مجھ کو ہوئی جاتی ہے
میں خبردار، نہ ہشیار نہیں کچھ بھی نہیں
ایک جیسے ہیں مگر پھر بھی جدا ہیں سارے
درمیاں ہے کوئی دیوار نہیں کچھ بھی نہیں