زعفرانی کلام
گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم
شعر کہنے کا سوال آئے تو مجبور ہیں ہم
اپنے اشعار سمجھنے سے بھی معذور ہیں ہم
فن سے غالب کے بہت دور بہت دور ہیں ہم
اپنی شہرت کی الگ راہ نکالی ہم نے
کسی دیواں سے غزل کوئی چرا لی ہم نے
زعفرانی کلام
گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم
شعر کہنے کا سوال آئے تو مجبور ہیں ہم
اپنے اشعار سمجھنے سے بھی معذور ہیں ہم
فن سے غالب کے بہت دور بہت دور ہیں ہم
اپنی شہرت کی الگ راہ نکالی ہم نے
کسی دیواں سے غزل کوئی چرا لی ہم نے
زعفرانی کلام
آٹھواں شوہر
کنوارے بوڑھے نے شادی کی ایسی عورت سے
کسی طرح بھی جو کچھ کم نہ تھی قیامت سے
نصیب والی تھی چھ شادی کر چکی تھی وہ
اب اپنے ساتویں شوہر کی زندگی تھی وہ
کچھ ایسا ساتواں شوہر بھی ہو گیا بیمار
یقیں تھا سب کو کہ یہ بھی اجل کا ہو گا شکار
زعفرانی کلام
بنے ہو جو رہبر وغیرہ وغیرہ
ہے شہرت کا چکر وغیرہ وغیرہ
میرے ساتھ خود بیٹھ کر پی چکے ہیں
خمار اور ساغر وغیرہ وغیرہ
نئی اِک غزل آج چھیڑی ہے میں نے
قوافی ہیں زر، پر وغیرہ وغیرہ
زعفرانی کلام
شکاری
مرے یاروں میں ہوا کرتے ہیں چرچے مرے
میرا فن وہ ہے کہ قائل ہے زمانہ میرا
اپنے بچے سے یہ کہتا تھا شکاری اکثر
کبھی خالی نہیں جاتا ہے نشانہ میرا
بچے کے ساتھ وہ اک روز چلے بہر شکار
اپنا فن بچۂ کمسن کو دکھانے کے لیے
زعفرانی کلام
تیرے فن کے پردے میں جلوہ گر کوئی اور تھا کوئی اور ہے
جو حسِین شعر نہ کہہ سکے وہ مِرے سوا کوئی اور ہے
مجھے ان دنوں یہی فکر ہے کہ کدھر نگاہِ کرم کروں
مجھے چاہتا کوئی اور ہے، مجھے مانگتا کوئی اور ہے
مجھے نوٹ جب مِلا بیس کا تو سمجھ میں خود ہی یہ آ گیا
جہاں دو ہزار کی بات تھی، وہ مشاعرہ کوئی اور ہے