عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اُنؐ کے دَر پر گئے گردِ راہِ سفر جسم پر رکھ کے ہم
اور پھر یہ ہُوا، پہروں روتے رہے در پہ سر رکھ کے ہم
راستوں کی ہوا رہنما بن گئی، سارباں بن گئی
جب چراغ ان کی چاہت کا لےکر چلے ہاتھ پر رکھ کے ہم
جِس کی تقدیر میں فرق کوئی نہیں، شام کوئی نہیں
نُور کے شہر سے لائے ہیں، آنکھ میں وہ سحر رکھ کے ہم