Showing posts with label اختر لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label اختر لکھنوی. Show all posts

Wednesday, 3 January 2024

ان کے در پر گئے گرد راہ سفر جسم پر رکھ کے ہم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اُنؐ کے دَر پر گئے گردِ راہِ سفر جسم پر رکھ کے ہم

اور پھر یہ ہُوا، پہروں روتے رہے در پہ سر رکھ کے ہم

راستوں کی ہوا رہنما بن گئی، سارباں بن گئی

جب چراغ ان کی چاہت کا لےکر چلے ہاتھ پر رکھ کے ہم

جِس کی تقدیر میں فرق کوئی نہیں، شام کوئی نہیں

نُور کے شہر سے لائے ہیں، آنکھ میں وہ سحر رکھ کے ہم

Saturday, 29 January 2022

دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت

 دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت

اپنا زمانہ یاد آتا ہے، سورج ڈھلتے وقت بہت

وہ پرچم وہ سر کے طُرے اور وہ سفینے اپنے تھے

جن کو دیکھ کے شعلے بھی روئے تھے جلتے وقت بہت

ان شیشوں کے ریزوں کا مرہم ہے اپنے زخموں پر

لمحہ لمحہ جو ٹوٹے تلواریں چلتے وقت بہت

Monday, 10 January 2022

دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بیگانے کا

 دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بے گانے کا

اختر جس نے عہد کیا تھا تم سے ساتھ نبھانے کا

آج ہمارے قدموں میں ہے کاہکشاں شہر مہتاب

کل تک لوگ کہا کرتے تھے خواب اسے دیوانے کا

تیرے لب و رخسار کے قصے تیرے قد و گیسو کی بات

ساماں ہم بھی رکھتے ہیں تنہائی میں دل بہلانے کا

Saturday, 25 December 2021

رونق ہی نہیں اس کی ہم روح و رواں بھی ہیں

 رونق ہی نہیں اس کی ہم روح و رواں بھی ہیں

لیکن ہمیں دنیا کی خاطر پہ گِراں بھی ہیں

اک تیرے ہی کوچے پر موقوف نہیں ہے کچھ

ہر گام ہیں تعزیریں، ہم لوگ جہاں بھی ہیں

گُل چیں کو نہیں شاید اس راز سے آگاہی

شبنم میں نہائے گل شعلوں کی زباں بھی ہیں

Sunday, 19 December 2021

سوئے مقتل کوئی دم ساتھ چلے

 سُوئے مقتل کوئی دم ساتھ چلے

جس کو رکھنا ہو بھرم، ساتھ چلے

اسی حسرت میں کٹی راہِ حیات

کوئی دو چار قدم ساتھ چلے

خار زاروں میں جہاں کوئی نہ تھا

بن کے ہمدم تِرے غم ساتھ چلے

Saturday, 18 December 2021

اب درد کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں ہے

 اب درد کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں ہے

اب دل کوئی پہلو ہو سنبھلتا ہی نہیں ہے

بے چین کئے رہتی ہے جس کی طلب دید

اب بام پہ وہ چاند نکلتا ہی نہیں ہے

اک عمر سے دنیا کا ہے بس ایک ہی عالم

یہ کیا کہ فلک رنگ بدلتا ہی نہیں ہے

Friday, 17 December 2021

دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا

 دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا

آپ کے نام پہ اک جشن منایا تو گیا

مئے کُہنہ نہ سہی، خونِ تمنا ہی سہی

ایک پیمانہ مِرے سامنے لایا تو گیا

خیر اپنا نہیں باغی ہی سمجھ کر ہم کو

تیری محفل میں کسی طور بلایا تو گیا