Showing posts with label ابرار کاشف. Show all posts
Showing posts with label ابرار کاشف. Show all posts

Tuesday, 20 September 2022

شدت احساس تنہائی جگایا مت کرو

 شدتِ احساسِ تنہائی جگایا مت کرو

مجھ کو اتنے سارے لوگوں سے ملایا مت کرو

تم ہمارے حوصلے کی آخری اُمید ہو

تم ہمارے زخم پر مرہم لگایا مت کرو

آخری لمحات میں کیا سوچنے لگتے ہو تم

جیت کے نزدیک آ کر ہار جایا مت کرو

Tuesday, 13 September 2022

تو اپنی چٹھیوں میں میر کے اشعار لکھتی ہے

 تُو اپنی چِٹھیوں میں میر کے اشعار لکھتی ہے

محبت کے بِنا ہے زندگی بے کار، لکھتی ہے

تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے

جنہیں میں پڑھتے ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے

تُو پیروکار لیلیٰ کی ہے، شیریں کی پُجارن ہے

مگر تُو جس پہ بیٹھی ہے وہ سونے کا سنگھاسن ہے

Sunday, 4 September 2022

یہ منظر دیکھ کر ساحل کی حیرانی نہیں جاتی

 یہ منظر دیکھ کر ساحل کی حیرانی نہیں جاتی

مجھے چُھو کر بھی کوئی موج طوفانی نہیں جاتی

پریشانی اگر ہے تو پریشانی کا حل بھی ہے

پریشاں حال رہنے سے پریشانی نہیں جاتی

یہ کیسے لوگ ہیں جو آئینہ پہچان لیتے ہیں

کہ اب ہم سے تو اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی

Friday, 2 September 2022

بولنے کا نہیں چپ رہنے کا من چاہتا ہے

 بولنے کا نہیں چپ رہنے کا من چاہتا ہے

ایسے حالات میں تو لطف سخن چاہتا ہے

ایک تو روح بھی کافور صفت ہے اپنی

اور اب جسم بھی بے داغ کفن چاہتا ہے

میں وفاؤں کا پرستار ہوں لیکن مجھ سے

میرا محبوب زمانے کا چلن چاہتا ہے

Saturday, 18 June 2022

خدا کا سوال؛ بتا کیا کیا تو نے میرے لیے

خدا کا سوال 

 فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ اس آیہ کے تناظر میں کہی گئی ایک نظم


میرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئی 

کہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی 

حقیقت ہوئی جیسے مجھ پر عیاں 

قلم بن گیا ہے خدا کی زبان 

میرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئی