شدتِ احساسِ تنہائی جگایا مت کرو
مجھ کو اتنے سارے لوگوں سے ملایا مت کرو
تم ہمارے حوصلے کی آخری اُمید ہو
تم ہمارے زخم پر مرہم لگایا مت کرو
آخری لمحات میں کیا سوچنے لگتے ہو تم
جیت کے نزدیک آ کر ہار جایا مت کرو
شدتِ احساسِ تنہائی جگایا مت کرو
مجھ کو اتنے سارے لوگوں سے ملایا مت کرو
تم ہمارے حوصلے کی آخری اُمید ہو
تم ہمارے زخم پر مرہم لگایا مت کرو
آخری لمحات میں کیا سوچنے لگتے ہو تم
جیت کے نزدیک آ کر ہار جایا مت کرو
تُو اپنی چِٹھیوں میں میر کے اشعار لکھتی ہے
محبت کے بِنا ہے زندگی بے کار، لکھتی ہے
تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے
جنہیں میں پڑھتے ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے
تُو پیروکار لیلیٰ کی ہے، شیریں کی پُجارن ہے
مگر تُو جس پہ بیٹھی ہے وہ سونے کا سنگھاسن ہے
یہ منظر دیکھ کر ساحل کی حیرانی نہیں جاتی
مجھے چُھو کر بھی کوئی موج طوفانی نہیں جاتی
پریشانی اگر ہے تو پریشانی کا حل بھی ہے
پریشاں حال رہنے سے پریشانی نہیں جاتی
یہ کیسے لوگ ہیں جو آئینہ پہچان لیتے ہیں
کہ اب ہم سے تو اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی
بولنے کا نہیں چپ رہنے کا من چاہتا ہے
ایسے حالات میں تو لطف سخن چاہتا ہے
ایک تو روح بھی کافور صفت ہے اپنی
اور اب جسم بھی بے داغ کفن چاہتا ہے
میں وفاؤں کا پرستار ہوں لیکن مجھ سے
میرا محبوب زمانے کا چلن چاہتا ہے
خدا کا سوال
فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ اس آیہ کے تناظر میں کہی گئی ایک نظم
میرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئی
کہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی
حقیقت ہوئی جیسے مجھ پر عیاں
قلم بن گیا ہے خدا کی زبان
میرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئی