Showing posts with label شمس بلتستانی. Show all posts
Showing posts with label شمس بلتستانی. Show all posts

Wednesday, 28 December 2022

اپنے چہرے پہ ہی چہرہ نیا بنواؤں گا

 اپنے چہرے پہ ہی چہرہ نیا بنواؤں گا

جیسا تُو چاہے گا ویسا ہی نظر آؤں گا

میں شجر ہوں تیرے ہونے سے ہی سرسبز ہوں میں

تجھ سے بچھڑوں گا تو اک دن میں اُجڑ جاؤں گا

روزِ محشر مجھے خالق نے اگر مہلت دی

اِک غزل تجھ پہ تقی میر سے لکھواؤں گا

Tuesday, 7 September 2021

کیسے سمجھے گا بھلا بات کوئی بیگانہ

 کیسے سمجھے گا بھلا بات کوئی بے گانہ

تن میرا کعبۂ غم، دل ہے میرا مے خانہ

میں بھلا کیوں نہ کروں مدح سرائی اس کی

جس کی توصیف بیاں کرتا ہے دانہ دانہ

تیرے ہاتھوں سے کروں نوش میں ساغر اک دن

اسی امید میں پھرتا ہوں لیے پیمانہ

Monday, 6 September 2021

پھول صحرا میں کھلائیں گے چلے جائیں گے

 پھول صحرا میں کھلائیں گے چلے جائیں گے

خواب کو خواب دکھائیں گے چلے جائیں گے

روزِ محشر کی ہمیں فکر نہیں، ہم تو وہاں

زخم سینے پہ سجائیں گے چلے جائیں گے

جس کو آنا ہے تو اک شب کی ہے مہلت ورنہ

ہم چراغوں کو بجھائیں گے، چلے جائیں گے

ہم سے دستور محبت کے نبھائے نہ گئے

 ہم سے دستور محبت کے نبھائے نہ گئے 

ایسے اجڑے کہ کبھی پھر سے بسائے نہ گئے 

زندگی بیت گئی ہجر کا غم سہتے ہوئے 

زائچے ہم سے رفاقت کے بنائے نہ گئے 

ہم نے دنیا کے ہر اک زخم کو پوشیدہ رکھا 

زخم جو تجھ سے ملے ہم سے چھپائے نہ گئے

Sunday, 5 September 2021

اور اب باعث تشہیر نہیں ہو سکتا

 اور اب باعثِ تشہیر نہیں ہو سکتا

مجھ سے اب غم میرا تحریر نہیں ہو سکتا

جو بھی چاہے اسے آزاد کیے دیتا ہوں

میں کسی پاؤں کی زنجیر نہیں ہو سکتا

چند سطروں میں جو مرقوم کرے میری حیات

وہ میرا کاتبِ تقدیر نہیں ہو سکتا

Sunday, 22 November 2020

اتنے نادان تھے جنت کو بھی فانی سمجھا

 اتنے نادان تھے جنت کو بھی فانی سمجھا

داستانِ غمِ ہجراں کو کہانی سمجھا

دیکھ کر مجھ کو اندھیرے میں سرِ میخانہ

میکدے کا مجھے کچھ لوگوں نے بانی سمجھا

اس لیے زندہ رہا دشتِ ستم میں آ کر

میری نظروں نے سرابوں کو بھی پانی سمجھا