اپنے چہرے پہ ہی چہرہ نیا بنواؤں گا
جیسا تُو چاہے گا ویسا ہی نظر آؤں گا
میں شجر ہوں تیرے ہونے سے ہی سرسبز ہوں میں
تجھ سے بچھڑوں گا تو اک دن میں اُجڑ جاؤں گا
روزِ محشر مجھے خالق نے اگر مہلت دی
اِک غزل تجھ پہ تقی میر سے لکھواؤں گا
اپنے چہرے پہ ہی چہرہ نیا بنواؤں گا
جیسا تُو چاہے گا ویسا ہی نظر آؤں گا
میں شجر ہوں تیرے ہونے سے ہی سرسبز ہوں میں
تجھ سے بچھڑوں گا تو اک دن میں اُجڑ جاؤں گا
روزِ محشر مجھے خالق نے اگر مہلت دی
اِک غزل تجھ پہ تقی میر سے لکھواؤں گا
کیسے سمجھے گا بھلا بات کوئی بے گانہ
تن میرا کعبۂ غم، دل ہے میرا مے خانہ
میں بھلا کیوں نہ کروں مدح سرائی اس کی
جس کی توصیف بیاں کرتا ہے دانہ دانہ
تیرے ہاتھوں سے کروں نوش میں ساغر اک دن
اسی امید میں پھرتا ہوں لیے پیمانہ
پھول صحرا میں کھلائیں گے چلے جائیں گے
خواب کو خواب دکھائیں گے چلے جائیں گے
روزِ محشر کی ہمیں فکر نہیں، ہم تو وہاں
زخم سینے پہ سجائیں گے چلے جائیں گے
جس کو آنا ہے تو اک شب کی ہے مہلت ورنہ
ہم چراغوں کو بجھائیں گے، چلے جائیں گے
ہم سے دستور محبت کے نبھائے نہ گئے
ایسے اجڑے کہ کبھی پھر سے بسائے نہ گئے
زندگی بیت گئی ہجر کا غم سہتے ہوئے
زائچے ہم سے رفاقت کے بنائے نہ گئے
ہم نے دنیا کے ہر اک زخم کو پوشیدہ رکھا
زخم جو تجھ سے ملے ہم سے چھپائے نہ گئے
اور اب باعثِ تشہیر نہیں ہو سکتا
مجھ سے اب غم میرا تحریر نہیں ہو سکتا
جو بھی چاہے اسے آزاد کیے دیتا ہوں
میں کسی پاؤں کی زنجیر نہیں ہو سکتا
چند سطروں میں جو مرقوم کرے میری حیات
وہ میرا کاتبِ تقدیر نہیں ہو سکتا
اتنے نادان تھے جنت کو بھی فانی سمجھا
داستانِ غمِ ہجراں کو کہانی سمجھا
دیکھ کر مجھ کو اندھیرے میں سرِ میخانہ
میکدے کا مجھے کچھ لوگوں نے بانی سمجھا
اس لیے زندہ رہا دشتِ ستم میں آ کر
میری نظروں نے سرابوں کو بھی پانی سمجھا