Showing posts with label جلیل حیدر. Show all posts
Showing posts with label جلیل حیدر. Show all posts

Thursday, 23 May 2024

ہر گھڑی یوں نہ کج ادائی کر

 ہر گھڑی یوں نہ کج ادائی کر

ٹوٹے دل تک بھی کچھ رسائی کر

کل بھلانا نہ ہو تجھے مشکل

آج تھوڑی سی بے وفائی کر

شوق سے ہم فقیر لوگوں پر

تُو بھی دو چار دن خدائی کر

Saturday, 8 August 2020

تم دھوپ سے نہ دھوپ کی یلغار سے بچو

تم دھوپ سے نہ دھوپ کی یلغار سے بچو
دیوار "گرنے" والی ہے، دیوار سے بچو
رکھ دے نہ کاٹ کر کہیں سارے وجود کو
خود ساختہ "اناؤں" کی "تلوار" سے بچو
وہ دل کا "ٹوٹنا" تو کوئی "واقعہ" نہ تھا
اب ٹوٹے دل کی کرچیوں کی دھار سے بچو

پرندے جا چکے ہیں کب کے گھونسلوں کو بھی

پرندے جا چکے ہیں کب کے گھونسلوں کو بھی
بتائے رستہ کوئی ہم مسافروں کو بھی
میں جانتا ہوں کہ اک دن ہمیں بچھڑنا ہے
سنبھال رکھا جبھی تو ہے آنسوؤں کو بھی
ابھی تو دور ہے منزل، کہ کاٹنی ہیں ابھی
ملی جو ورثے میں ہیں ان مسافتوں کو بھی

Friday, 7 August 2020

ظلم سہتے ہیں خموشی سے مسلسل ہم لوگ

ظلم سہتے ہیں خموشی سے مسلسل ہم لوگ
اپنی "راہوں" کو بنا دیتے ہیں دلدل ہم لوگ
"شیخ نے جوشِ خطابت میں کہا تھا "جاں دو
جاں ہتھیلی پہ سجا لائے تھے پاگل ہم لوگ
اپنے   ہاتھوں سے جسے دار پہ کل کھینچا تھا
اب سمجھتے ہیں اسے دیوتا ہر پل ہم لوگ

وہ جو کب کا بچھڑ گیا مجھ سے

وہ جو کب کا بچھڑ گیا مجھ سے
ایک پل بھی نہیں جدا مجھ سے
ایک انسان سے، محبت پر
ساری دنیا ہے کیوں خفا مجھ سے
وہ ستارہ تھا،۔ یا کوئی جگنو
پھر اچانک وہ کھو گیا مجھ سے

Thursday, 6 August 2020

تم نے جینا ہے کیا سدا لوگو

تم نے جینا ہے کیا سدا لوگو
خبطِ عظمت میں مبتلا لوگو
تم سے پہلے بھی کتنے آئے تھے
جن کا کچھ بھی نہیں پتا لوگو
اب ترستے ہو ایک کرن کو بھی
خود بجھایا تھا کیوں دِیا🪔 لوگو

کچھ ترے یار ہیں کچھ مرے یار ہیں

کچھ تِرے یار ہیں، کچھ مِرے یار ہیں
شہ سے بڑھ کے جو شہ کے وفادار ہیں
آئینے سے بھی جو جھوٹ بلواتے ہیں
تیرے "دربار" میں ایسے فنکار ہیں
پوچھتے ہیں ہوا سے کہاں جلنا ہے؟
آج کل کے دِیے بھی سمجھدار ہیں

شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے
کیسا عاشق ہے تِرے نام پہ قرباں ہے مگر
تیری ہر بات سے انجان ہوا پھرتا ہے
ہم کو جکڑا ہے یہاں جبر کی زنجیروں نے
اب تو یہ شہر ہی "زندان" ہوا پھرتا ہے

ناخدا سخت خفا گرچہ ہمیں پر تھے بہت

ناخدا سخت خفا گرچہ ہمیں پر تھے بہت
ہم نے بھی عزم کے پہنے ہوئے زیور تھے بہت
‏تُو نے دستک ہی نہیں دی کسی دروازے پر
ورنہ کھلنے کو تو دیوار میں بھی در تھے بہت
اڑ نہیں پایا، اگرچہ یہ فضا بھی تھی کھلی
میرے اندر سے مجھے جکڑے ہوئے ڈر تھے بہت

Saturday, 1 August 2020

بند کر بیٹھے ہو گھر رد بلا کی خاطر

بند کر "بیٹھے" ہو گھر "ردِ بلا" کی خاطر
ایک کھڑکی تو کھلی رکھتے ہوا کی خاطر
بھینٹ چڑھتے رہے ہر دور میں انساں کتنے
فردِ "واحد" کی فقط جھوٹی "انا" کی خاطر
ہر زبردست کا ہر ظلم سہا ہے میں نے
زندگی! محض تِری حرصِ بقا کی خاطر

میرے وجود میں وہ اس طرح سمو جائے

میرے وجود میں وہ اس طرح سمو جائے
جو میرے پاس ہے سب کچھ اسی کا ہو جائے
ابھی تو آنکھ کے اندر ہے تیرتا آنسو
ٹپک پڑا تو نہ گھر ہی کہیں ڈبو جائے
خوشی ملے بھی تو یہ دل اداس رہتا ہے
بس ایک خوف سا رہتا ہے کچھ نہ ہو جائے