دیکھو ایک نظر مجھ کو
کر دو گے بہتر مجھ کو
لاج ہے اپنے ہونے کی
ناز ہے خوابوں پر مجھ کو
اے خود کو کھونے والے
ڈھونڈ کہیں جا کر مجھ کو
دیکھو ایک نظر مجھ کو
کر دو گے بہتر مجھ کو
لاج ہے اپنے ہونے کی
ناز ہے خوابوں پر مجھ کو
اے خود کو کھونے والے
ڈھونڈ کہیں جا کر مجھ کو
خون کی حِدتوں میں اُتری ہے
اک اداسی رگوں میں اتری ہے
کیا خبر ہے کہ دن کہاں بچھڑا
رات کب کھڑکیوں میں اتری ہے
جو مسافت بھی پاؤں سے الجھی
بے جہت راستوں میں اتری ہے
سوئی آنکھوں میں جاگتی دنیا
کیا عجب تھی وہ خواب کی دنیا
کیسے میرے خلاف جائے گی
یہ مِرے ہاتھ سے بنی دنیا
نام تیرا ابھر کے آیا ہے
میں نے کاغذ پہ جب لکھی دنیا
ظاہر میں ہمدرد ہمارے
ہم پر ہاتھ اٹھانے والے
نا مردوں سے مرد ہمارے
ہم سے رنگ زمانے میں
پھر بھی چہرے زرد ہمارے
جسموں کے سوداگر ہیں
ظاہر میں ہمدرد ہمارے
رفعت وحید
بجز اس کے کوئی رونا نہیں ہے
کہ کل مجھ کو یہاں ہونا نہیں ہے
نہ ہو جس بیج میں خواہش نمو کی
مجھے وہ بیج بونا نہیں ہے
تجھے پانا ہے لیکن تیری خاطر
خود اپنے آپ کو کھونا نہیں ہے