Showing posts with label رفعت وحید. Show all posts
Showing posts with label رفعت وحید. Show all posts

Wednesday, 28 September 2022

دیکھو ایک نظر مجھ کو

 دیکھو ایک نظر مجھ کو

کر دو گے بہتر مجھ کو

لاج ہے اپنے ہونے کی

ناز ہے خوابوں پر مجھ کو

اے خود کو کھونے والے

ڈھونڈ کہیں جا کر مجھ کو

Thursday, 25 August 2022

خون کی حدتوں میں اتری ہے

 خون کی حِدتوں میں اُتری ہے

اک اداسی رگوں میں اتری ہے

کیا خبر ہے کہ دن کہاں بچھڑا

رات کب کھڑکیوں میں اتری ہے

جو مسافت بھی پاؤں سے الجھی

بے جہت راستوں میں اتری ہے

Wednesday, 24 August 2022

سوئی آنکھوں میں جاگتی دنیا

 سوئی آنکھوں میں جاگتی دنیا

کیا عجب تھی وہ خواب کی دنیا

کیسے میرے خلاف جائے گی

یہ مِرے ہاتھ سے بنی دنیا

نام تیرا ابھر کے آیا ہے

میں نے کاغذ پہ جب لکھی دنیا

Saturday, 20 August 2022

ظاہر میں ہمدرد ہمارے

 ظاہر میں ہمدرد ہمارے


ہم پر ہاتھ اٹھانے والے

نا مردوں سے مرد ہمارے

ہم سے رنگ زمانے میں

پھر بھی چہرے زرد ہمارے

جسموں کے سوداگر ہیں

ظاہر میں ہمدرد ہمارے


رفعت وحید

Saturday, 17 April 2021

بجز اس کے کوئی رونا نہیں ہے

 بجز اس کے کوئی رونا نہیں ہے

کہ کل مجھ کو یہاں ہونا نہیں ہے

نہ ہو جس بیج میں خواہش نمو کی

مجھے وہ بیج بونا نہیں ہے

تجھے پانا ہے لیکن تیری خاطر

خود اپنے آپ کو کھونا نہیں ہے