Showing posts with label شاہد فرید. Show all posts
Showing posts with label شاہد فرید. Show all posts

Saturday, 18 March 2023

اپنے ہمراہ محبت کے حوالے رکھنا

 اپنے ہمراہ محبت کے حوالے رکھنا

کتنا دشوار ہے اک روگ کو پالے رکھنا

اتنا آسان نہیں بند گلی میں رہنا

شہرِ تاریک میں یادوں کے اجالے رکھنا

ہم زیادہ کے طلبگار نہیں ہیں لیکن

وقت کچھ بہرِ ملاقات نکالے رکھنا

Friday, 17 March 2023

کبھی غمی کے نام پر کبھی خوشی کی آڑ میں

 کبھی غمی کے نام پر کبھی خوشی کی آڑ میں

تباہ کر گیا مجھے وہ دوستی کی آڑ میں

وہ جب چلا گیا یہاں سے پھر مجھے خبر ہوئی

کہ موت پالتا رہا ہوں زندگی کی آڑ میں

وہ شخص بھی عجیب تھا عجیب اس کے شوق تھے

خدا تراشتا رہا صنم گری کی آڑ میں

Sunday, 12 February 2023

کوئی بچ نہیں پاتا ایسا جال بنتے ہیں

کوئی بچ نہیں پاتا ایسا جال بُنتے ہیں

کیسے کیسے قصے یہ ماہ و سال بنتے ہیں

جانے کتنی صدیوں سے ہر برس خزاں رُت میں

خشک پتے دھرتی پر ذرد شال بنتے ہیں

آج کل نہ جانے کیوں ذہن پر تناؤ ہے

ٹُوٹ پُھوٹ جاتا ہے جو خیال بنتے ہیں

Friday, 11 March 2022

مضطرب سا رہتا ہے مجھ سے بات کرتے وقت

مضطرب سا رہتا ہے مجھ سے بات کرتے وقت

پھیر کر کلائی کو بار بار دیکھے وقت

بارہا یہ سوچا ہے گھر سے آج چلتے وقت

حادثہ نہ ہو جائے راہ سے گزرتے وقت

کوئی بھی نہیں پہنچا آگ سے بچانے کو

میں تھا اور تنہائی اپنے گھر میں جلتے وقت

Monday, 18 January 2021

تیرے درشن سدا نہیں ہوتے

تیرے درشن سدا نہیں ہوتے

معجزے بارہا نہیں ہوتے

آؤ تو آہٹیں نہیں ہوتیں

جاؤ تو نقشِ پا نہیں ہوتے

تم سے ملنے ضرور آؤں گا

فرض مجھ سے قضا نہیں ہوتے