اپنے ہمراہ محبت کے حوالے رکھنا
کتنا دشوار ہے اک روگ کو پالے رکھنا
اتنا آسان نہیں بند گلی میں رہنا
شہرِ تاریک میں یادوں کے اجالے رکھنا
ہم زیادہ کے طلبگار نہیں ہیں لیکن
وقت کچھ بہرِ ملاقات نکالے رکھنا
اپنے ہمراہ محبت کے حوالے رکھنا
کتنا دشوار ہے اک روگ کو پالے رکھنا
اتنا آسان نہیں بند گلی میں رہنا
شہرِ تاریک میں یادوں کے اجالے رکھنا
ہم زیادہ کے طلبگار نہیں ہیں لیکن
وقت کچھ بہرِ ملاقات نکالے رکھنا
کبھی غمی کے نام پر کبھی خوشی کی آڑ میں
تباہ کر گیا مجھے وہ دوستی کی آڑ میں
وہ جب چلا گیا یہاں سے پھر مجھے خبر ہوئی
کہ موت پالتا رہا ہوں زندگی کی آڑ میں
وہ شخص بھی عجیب تھا عجیب اس کے شوق تھے
خدا تراشتا رہا صنم گری کی آڑ میں
کوئی بچ نہیں پاتا ایسا جال بُنتے ہیں
کیسے کیسے قصے یہ ماہ و سال بنتے ہیں
جانے کتنی صدیوں سے ہر برس خزاں رُت میں
خشک پتے دھرتی پر ذرد شال بنتے ہیں
آج کل نہ جانے کیوں ذہن پر تناؤ ہے
ٹُوٹ پُھوٹ جاتا ہے جو خیال بنتے ہیں
مضطرب سا رہتا ہے مجھ سے بات کرتے وقت
پھیر کر کلائی کو بار بار دیکھے وقت
بارہا یہ سوچا ہے گھر سے آج چلتے وقت
حادثہ نہ ہو جائے راہ سے گزرتے وقت
کوئی بھی نہیں پہنچا آگ سے بچانے کو
میں تھا اور تنہائی اپنے گھر میں جلتے وقت
تیرے درشن سدا نہیں ہوتے
معجزے بارہا نہیں ہوتے
آؤ تو آہٹیں نہیں ہوتیں
جاؤ تو نقشِ پا نہیں ہوتے
تم سے ملنے ضرور آؤں گا
فرض مجھ سے قضا نہیں ہوتے