خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوں
تِرے تصور کی سرزمیں پر نئے گلستاں کھلا رہا ہوں
میں سارے برباد کن خیالوں کو دل کا مہماں بنا رہا ہوں
خِرد کی محفل اجڑ چکی ہے جنوں کی محفل سجا رہا ہوں
اُدھر ہے آنکھوں میں اک شرارت اِدھر ہے سینے میں اک چبھن سی
نظر سے وہ مسکرا رہے ہیں، جگر سے میں مسکرا رہا ہوں