Showing posts with label احسان دربھنگوی. Show all posts
Showing posts with label احسان دربھنگوی. Show all posts

Wednesday, 21 September 2022

خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوں

 خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوں

تِرے تصور کی سرزمیں پر نئے گلستاں کھلا رہا ہوں

میں سارے برباد کن خیالوں کو دل کا مہماں بنا رہا ہوں

خِرد کی محفل اجڑ چکی ہے جنوں کی محفل سجا رہا ہوں

اُدھر ہے آنکھوں میں اک شرارت اِدھر ہے سینے میں اک چبھن سی

نظر سے وہ مسکرا رہے ہیں، جگر سے میں مسکرا رہا ہوں

Wednesday, 7 September 2022

سمجھ سکتے نہیں جو تیرے ماتھے کی شکن ساقی

 سمجھ سکتے نہیں جو تیرے ماتھے کی شکن ساقی

وہ کیا جانیں کہ ہے بادہ کشی بھی ایک فن ساقی

نکال ان کو سبو و جام میں جو فرق کرتے ہیں

تمیز بیش و کم ہے عقل کا دیوانہ پن ساقی

تکلف بر طرف ہم شوق کی مستی سے ڈرتے ہیں

یہی ہے راہبر ساقی یہی ہے راہزن ساقی

Saturday, 27 August 2022

دل کے مریض ذہن کے بیمار کیوں ہوئے

 دل کے مریض ذہن کے بیمار کیوں ہوئے 

زلفوں سے کھیلتے تھے سر دار کیوں ہوئے 

چلمن میں اضطراب کی اک کیفیت تھی کیوں

جلوے نظر کے ساتھ گناہگار کیوں ہوئے

دیوانہ اپنے آپ سے کرتا تھا کچھ کلام

لیکن یہ زرد آپ کے رخسار کیوں ہوئے

Wednesday, 24 August 2022

بات اب آئی سمجھ میں کہ حقیقت کیا تھی

 بات اب آئی سمجھ میں کہ حقیقت کیا تھی

ایک جذبات کی شدت تھی، محبت کیا تھی

اب یہ جانا کہ وہ دن رات کے شکوے کیا تھے

اب یہ معلوم ہوا وجہِ شکایت کیا تھی

کوئی اک شوخ اشارہ ہی بہت تھا اے دوست

اتنے سنجیدہ تبسم کی ضرورت کیا تھی

Monday, 10 May 2021

یاد تیری جو کبھی آتی ہے بہلانے کو

 یاد تیری جو کبھی آتی ہے بہلانے کو

اور دیوانہ بنا جاتی ہے دیوانے کو

ہم بتائیں گے تمہیں شانہ و گیسو کے رموز

ختم کر لو حرم و دیر کے افسانے کو

اس کو محفل میں جو دیکھا تپش غم کا شریک

لے لیا شمع نے آغوش میں پروانے کو