Showing posts with label شہاب صفدر. Show all posts
Showing posts with label شہاب صفدر. Show all posts

Sunday, 16 October 2022

اگر اپنی زبان سے جاؤں

اگر اپنی زبان سے جاؤں

جان بہتر ہے جان سے جاؤں

یہ مکاں بھی تو لامکاں سا ہے

کدھر اب اس مکاں سے جاؤں

آسمان و زمیں کا فاصل ہوں

گر نکل درمیان سے جاؤں

Monday, 15 March 2021

بچانے کے لیے لفظوں کی حرمت جیتے مرتے تھے

 بچانے کے لیے لفظوں کی حرمت جیتے مرتے تھے

سنا ہے سادہ ان پڑھ لوگ جو کہتے تھے کرتے تھے

عجب دن تھے کسی کو مبتلائے درد پاتے تو

ہمیں بھی درد ہوتا اور ہم بھی آہ بھرتے تھے

بساطِ سوگ پر گھمسان سا رہتا تھا یادوں میں

کھڑی فصلیں، کچلتے روندتے، لشکر گزرتے تھے

Monday, 8 March 2021

تھا دل کو ذوق زخم شماری نہیں رہا

 تھا دل کو ذوقِ زخم شماری نہیں رہا

اہلِ نظر کا فیض تھا، جاری، نہیں رہا

مارے جو تم نے پھول، لگے صبر آزما

اب کوئی وار دوستو! کاری نہیں رہا

بہرِ وِداع آ گئے احبابِ جاں سپار

جاں دادگی کا مرحلہ بھاری نہیں رہا

Sunday, 7 March 2021

ہوا تنکے اٹھائے پھر رہی ہے آشیاں کے

 اکھڑتی سانس کی الجھن


ہوا تنکے اٹھائے پھر رہی ہے آشیاں کے

بہت محفوظ تھا یہ

پیڑ تھا جب تک سلامت

گھنی شاخوں میں اس کی

آندھیوں کو

وار کرنے کی نہ تھی طاقت

Monday, 8 February 2021

مایۂ افتخار

 مایۂ افتخار


سلیماں جانے کب آیا یہاں

لیکن ہے پابوسی کے باعث سر کشیدہ

‘‘آج بھی ’’تخت سلیماں

یہیں شاید کیا تھا

مور بے مایہ نے اک طنزِ ملیح

افلاک میں اڑتے ہوئے اُس نے مگر

Sunday, 2 August 2020

جب بھی کشتی کے مقابل بھنور آتا ہے کوئی

جب بھی کشتی کے مقابل بھنور آتا ہے کوئی
جگمگاتا سرِ ساحل نظر آتا ہے کوئی
بے رخی اس کی دِلاتی ہے جہاں کا احساس
لیے دنیا کی خبر، بے خبر آتا ہے کوئی
شدتِ یاس میں چپکے سے اجالوں کی طرح
میرے تاریک خیالوں میں در آتا ہے کوئی

دل سے ہارا زمانے سے بھی رہ گیا

دل سے ہارا زمانے سے بھی رہ گیا
وہ کہیں جانے سے سے بھی رہ گیا
کر نہ پایا سفر دور کے چاند تک
اور پرندہ ٹھکانے سے بھی رہ گیا
خواب تھا دوسروں کا سہارا بنوں
بوجھ اپنا اٹھانے سے بھی رہ گیا

Friday, 31 July 2020

سویا ہوا نصیب جگانے لگا تھا میں

مسمار ہوں کہ خود کو اٹھانے لگا تھا میں
مٹی سے "آسمان" بنانے لگا تھا میں
بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکل پڑے
تصویر سے "غبار" ہٹانے لگا تھا میں
آواز دے کے روک لیا اس نے جس گھڑی
مایوس ہو کے لوٹ کے جانے لگا تھا میں

اے دربدری لوٹ کے گھر آنے لگا ہوں

تھا بامِ فلک، خاک بسر آنے لگا ہوں
جس سمت اشارہ تھا ادھر آنے لگا ہوں
جب تک تری آنکھوں میں نہیں تھا تو نہیں تھا
اب دیکھنے والوں کو نظر آنے لگا ہوں
مت کاٹنا رستہ مِرا بن کر خط امکاں
اے دربدری لوٹ کے گھر آنے لگا ہوں

دے رہا ہے دستکیں در پر کوئی

دے رہا ہے دستکیں در پر کوئی
کہہ رہا ہوں میں نہیں گھر پر کوئی
مطمئن ہوں یوں کہ حافظ ہے خدا
ہے کھڑا خنجر بہ کف سر پر کوئی
خود کشی ہے جرم لیکن انحصار
کیا کرے اب ٭لاؤ لشکر پر کوئی

Monday, 7 November 2016

رہ گئے انجم دھرے مہتاب رکھا رہ گیا

رہ گئے انجم دھرے مہتاب رکھا رہ گیا
رات کی دہلیز پر ہر خواب رکھا رہ گیا
اڑ گئے سہمے پرندے آب و دانہ چھوڑ کر
ہجرتیں واجب ہوئیں، اسباب رکھا رہ گیا
ملتوی کر دی اچانک اس نے تقریبِ وِصال
اور دل سا تحفۂ نایاب رکھا رہ گیا

بینائی کو پلکوں سے ہٹانے کی پڑی ہے

بینائی کو پلکوں سے ہٹانے کی پڑی ہے
شہ کار پہ جو گرد زمانے کی پڑی ہے
آساں ہوا سچ کہنا تو بولے گا مؤرخ
فی الحال اسے جان بچانے کی پڑی ہے
چھوٹا سا پرندہ مگر سعی تو دیکھو
جنگل سے بڑی آگ بجھانے کی پڑی ہے

اشک سیلاب سہی ٹیس یہ جانے کی نہیں

اشک سیلاب سہی ٹیس یہ جانے کی نہیں
داغ دھلنے کے نہیں، یاد مٹانے کی نہیں
اب ندامت نے وہ گھیرا ہے کہ اک لمحے کو
بے حسی جشنِ غمِ ذات منانے کی نہیں 
کیمرے تھے جو دکھاتے رہے چھلنی منظر
عام آنکھوں سے قیامت نظر آنے کی نہیں

Friday, 28 October 2016

کوئی چراغ جب انکار شام بھی نہ کرے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام

کوئی چراغ جب انکارِ شام بھی نہ کرے
کرے گا کون، اگر یہ امام بھی نہ کرے
مِری کسی سے نہیں دشمنی مگر جو شخص 
نہیں حسین کا، مجھ سے کلام بھی نہ کرے
گِراں گزرتی ہے جس دل پہ یادگارِ حسین 
حضورِ حق میں سجود و قیام بھی نہ کرے

ترا کلام سمجھ کر سلام کرتا ہوں

نعتِ رسولِ مقبولﷺ

تِرا کلام سمجھ کر سلام کرتا ہوں
میں روشنی کا بہت احترام کرتا ہوں
مجھے شعور نہیں نعت کیسے ہوتی ہے
قلم کے ساتھ سجود و قیام کرتا ہوں
میں دان کرتا ہوں گھر گھر جو دُر عقیدت کے
خدا کی خاص عنایت کو عام کرتا ہوں