اگر اپنی زبان سے جاؤں
جان بہتر ہے جان سے جاؤں
یہ مکاں بھی تو لامکاں سا ہے
کدھر اب اس مکاں سے جاؤں
آسمان و زمیں کا فاصل ہوں
گر نکل درمیان سے جاؤں
اگر اپنی زبان سے جاؤں
جان بہتر ہے جان سے جاؤں
یہ مکاں بھی تو لامکاں سا ہے
کدھر اب اس مکاں سے جاؤں
آسمان و زمیں کا فاصل ہوں
گر نکل درمیان سے جاؤں
بچانے کے لیے لفظوں کی حرمت جیتے مرتے تھے
سنا ہے سادہ ان پڑھ لوگ جو کہتے تھے کرتے تھے
عجب دن تھے کسی کو مبتلائے درد پاتے تو
ہمیں بھی درد ہوتا اور ہم بھی آہ بھرتے تھے
بساطِ سوگ پر گھمسان سا رہتا تھا یادوں میں
کھڑی فصلیں، کچلتے روندتے، لشکر گزرتے تھے
تھا دل کو ذوقِ زخم شماری نہیں رہا
اہلِ نظر کا فیض تھا، جاری، نہیں رہا
مارے جو تم نے پھول، لگے صبر آزما
اب کوئی وار دوستو! کاری نہیں رہا
بہرِ وِداع آ گئے احبابِ جاں سپار
جاں دادگی کا مرحلہ بھاری نہیں رہا
اکھڑتی سانس کی الجھن
ہوا تنکے اٹھائے پھر رہی ہے آشیاں کے
بہت محفوظ تھا یہ
پیڑ تھا جب تک سلامت
گھنی شاخوں میں اس کی
آندھیوں کو
وار کرنے کی نہ تھی طاقت
مایۂ افتخار
سلیماں جانے کب آیا یہاں
لیکن ہے پابوسی کے باعث سر کشیدہ
‘‘آج بھی ’’تخت سلیماں
یہیں شاید کیا تھا
مور بے مایہ نے اک طنزِ ملیح
افلاک میں اڑتے ہوئے اُس نے مگر