Monday, 7 November 2016

رہ گئے انجم دھرے مہتاب رکھا رہ گیا

رہ گئے انجم دھرے مہتاب رکھا رہ گیا
رات کی دہلیز پر ہر خواب رکھا رہ گیا
اڑ گئے سہمے پرندے آب و دانہ چھوڑ کر
ہجرتیں واجب ہوئیں، اسباب رکھا رہ گیا
ملتوی کر دی اچانک اس نے تقریبِ وِصال
اور دل سا تحفۂ نایاب رکھا رہ گیا
کر گیا ویران بنجر ساعتوں کا دکھ مجھے
منتظر اک لمحۂ شاداب رکھا رہ گیا
موج غمِ لائی نہ اشکِ خوں کو آنکھوں تک شہابؔ
ایک موتی تھا جو زیرِ آب رکھا رہ گیا

شہاب صفدر

No comments:

Post a Comment