رہ گئے انجم دھرے مہتاب رکھا رہ گیا
رات کی دہلیز پر ہر خواب رکھا رہ گیا
اڑ گئے سہمے پرندے آب و دانہ چھوڑ کر
ہجرتیں واجب ہوئیں، اسباب رکھا رہ گیا
ملتوی کر دی اچانک اس نے تقریبِ وِصال
کر گیا ویران بنجر ساعتوں کا دکھ مجھے
منتظر اک لمحۂ شاداب رکھا رہ گیا
موج غمِ لائی نہ اشکِ خوں کو آنکھوں تک شہابؔ
ایک موتی تھا جو زیرِ آب رکھا رہ گیا
شہاب صفدر
No comments:
Post a Comment