Monday, 7 November 2016

بینائی کو پلکوں سے ہٹانے کی پڑی ہے

بینائی کو پلکوں سے ہٹانے کی پڑی ہے
شہ کار پہ جو گرد زمانے کی پڑی ہے
آساں ہوا سچ کہنا تو بولے گا مؤرخ
فی الحال اسے جان بچانے کی پڑی ہے
چھوٹا سا پرندہ مگر سعی تو دیکھو
جنگل سے بڑی آگ بجھانے کی پڑی ہے
چھلنی ہوا جاتا ہے ادھر اپنا کلیجہ
یاروں کو ادھر ٹھیک نشانے کی پڑی ہے
حالات شہابؔ آنکھ اٹھانے نہیں دیتے
بچوں کو مگر عید منانے کی پڑی ہے

شہاب صفدر

No comments:

Post a Comment