بینائی کو پلکوں سے ہٹانے کی پڑی ہے
شہ کار پہ جو گرد زمانے کی پڑی ہے
آساں ہوا سچ کہنا تو بولے گا مؤرخ
فی الحال اسے جان بچانے کی پڑی ہے
چھوٹا سا پرندہ مگر سعی تو دیکھو
چھلنی ہوا جاتا ہے ادھر اپنا کلیجہ
یاروں کو ادھر ٹھیک نشانے کی پڑی ہے
حالات شہابؔ آنکھ اٹھانے نہیں دیتے
بچوں کو مگر عید منانے کی پڑی ہے
شہاب صفدر
No comments:
Post a Comment