Showing posts with label جاوید شاہین. Show all posts
Showing posts with label جاوید شاہین. Show all posts

Tuesday, 18 April 2023

ہے عجب شغل مرا رات کے ڈھل جانے تک

 ہے عجب شغل مِرا رات کے ڈھل جانے تک

دیکھتا رہتا ہوں تارا کوئی جل جانے تک

پھر سلا دے گا اسے بحر کا اک گہرا سکوت

مستی ہے موج میں ساحل پہ مچل جانے تک

کیا ہوا اس کی گرہ میں ہے اگر اک دوری

میں بھی تو اس کا ہوں بس اس کے بدل جانے تک

Saturday, 27 August 2022

زخم کوئی اک بڑی مشکل سے بھر جانے کے بعد

 زخم کوئی اک بڑی مشکل سے بھر جانے کے بعد

مل گیا وہ پھر کہیں دل کے ٹھہر جانے کے بعد

میں نے وہ لمحہ پکڑنے میں کہاں تاخیر کی

سوچتا رہتا ہوں اب اس کے گزر جانے کے بعد

کیسا اور کب سے تعلق تھا ہمارا کیا کہوں؟

کچھ نہیں کہنے کو اب اس کے مُکر جانے کے بعد

Friday, 22 April 2022

یہ جو تنہائی ملی آنکھ میں دھرنے کے لیے

 یہ جو تنہائی ملی آنکھ میں دھرنے کے لیے

اس میں اک دشت بھی ہے میرے گزرنے کے لیے

جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے

صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے

پاؤں سے لپٹی ملی ساری کی ساری یہ زمیں

یہ فلک پورا ملا آنکھ میں دھرنے کے لیے

Saturday, 19 February 2022

زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا

 زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا

بات کیا تھی میں خفا جس پر زمانے سے ہوا

ایک پل میں اک جگہ سے اتنا روشن آسماں

کوئی تارہ بنتے بنتے ٹوٹ جانے سے ہوا

سوچتا رہتا ہوں میں اکثر کہ آغازِ جہاں

دن بنانے سے کہ پہلے شب بنانے سے ہوا

Friday, 17 December 2021

زخم کوئی اک بڑی مشکل سے بھر جانے کے بعد

 زخم کوئی اک بڑی مشکل سے بھر جانے کے بعد

مل گیا وہ پھر کہیں دل کے ٹھہر جانے کے بعد

میں نے وہ لمحہ پکڑنے میں کہاں تاخیر کی

سوچتا رہتا ہوں اب اس کے گزر جانے کے بعد

کیسا اور کب سے تعلق تھا ہمارا کیا کہوں؟

کچھ نہیں کہنے کو اب اس کے مُکر جانے کے بعد

Saturday, 7 August 2021

اگر سردیوں کی کسی رات کو کوئی بھوکا گداگر

نیکیوں سے خالی شہر


اگر سردیوں کی کسی رات کو

کوئی بھوکا گداگر

مِرے گھر پہ آواز دے

اس کو روٹی کا ٹکڑا نہ دوں گا

جھلستی ہوئی سخت دوپہر میں

کوئی بے کس مسافر

Sunday, 9 May 2021

مری کارگاہ دل میں ابھی کام ہے زیادہ

 مِری کارگاہِ دل میں ابھی کام ہے زیادہ

کوئی چیز اک جگہ سے ذرا خام ہے زیادہ

کسی منظر شفق کو کہاں آنکھ میں جگہ دوں

مِرے خونِ دل سے رنگیں مِری شام ہے زیادہ

گھڑی بھر ٹھہرنے والے ذرا یہ خیال رکھنا

یہ جو سایۂ شجر ہے کوئی دام ہے زیادہ

Thursday, 6 May 2021

مرے بیش و کم کے پیچھے ترا ہاتھ ہے زیادہ

 مِرے بیش و کم کے پیچھے تِرا ہاتھ ہے زیادہ

مِرا دن بنانے والے مِری رات ہے زیادہ

یہاں ایک حد سے آگے کسی زعم میں نہ رہنا

تجھے چھوڑ جانے والا تِرے ساتھ ہے زیادہ

جو سرہانے رکھے رکھے شبِ غم میں سو گیا ہے

مِرا کام کرنے والا وہی ہاتھ ہے زیادہ

Thursday, 22 April 2021

ڈوبنے والا تھا دن شام تھی ہونے والی

 ڈوبنے والا تھا دن شام تھی ہونے والی

یوں لگا مِری کوئی چیز تھی کھونے والی

صبح کے ساتھ ہوئی ختم مِری رات کی گشت

رہ گئی ایک گلی شہر کے کونے والی

کتنا شفاف چمکتا ہوا دن تھا جس کی

دھوپ تھی پیار کی بارش میں بھگونے والی

Monday, 19 April 2021

ابھی تھوڑی سی جگہ خالی ہے

 ابھی تھوڑی سی جگہ خالی ہے

تمام آباد جگہوں کے درمیان

ابھی تھوڑی سی جگہ خالی ہے

میرے دل کے اندر

میں نے کتنی قیمت ادا کی ہے

اسے خالی رکھنے کی

Wednesday, 31 March 2021

جہاں بھی ہو اداسی آ ہی جاتی ہے خبر مجھ تک

 نظم کا آغاز کرتا ہوں


جہاں بھی ہو اُداسی

آ ہی جاتی ہے خبر مجھ تک

کسی تنہا مسافر کا

پہنچ جاتا ہے سب رنجِ سفر مجھ تک

جہاں جتنی بھی ہو تنہائی

Tuesday, 30 March 2021

یہ برف زار بدن سے نہ جاں سے نکلے گا

 یہ برفزار بدن سے نہ جاں سے نکلے گا

لہو ہو سرد تو شعلہ کہاں سے نکلے گا

ہزار گھیرے رہے جبر کا حصارِ سیہ

کہ بابِ‌ راہِ اماں درمیاں سے نکلے گا

جو تلخ حرف پسِ لب ہے عام بھی ہو گا

چڑھا ہے تیر تو آخر کماں سے نکلے گا

Monday, 29 March 2021

بہت مصروف رہتا ہوں

 بہت مصروف رہتا ہوں


بہت مصروف رہتا ہوں

دلوں کے سرد موسم پر

چمکتی دھوپ کا ٹکڑا بچھانے میں

محبت کے کسی ویران ساحل پر

پڑی ہے موج چھوٹی سی

Sunday, 28 March 2021

میں جہاں کھڑا ہوں بس اتنی جگہ میری ہے

 میرے حصے کی جگہ


میں جہاں کھڑا ہوں

بس اتنی جگہ میری ہے

گرم ہواؤں سے

میرا بدن چھلنی ہے

سرد پانیوں سے

میرے پاؤں شل ہیں

کوئی خواب تھا بڑا خوش قبا

دیر سے کھُلنے والا راز


 کوئی خواب تھا بڑا خوش قبا

جسے اوڑھ کر میں پڑا رہا

وہ جو خواب تھا اسی میں کہیں

تھا چھُپا ہوا کوئی جھُوٹ بھی اسی خواب کا

میری چشمِ بند پہ راز یہ بڑی دیر بعد کہیں کھُلا