ہے عجب شغل مِرا رات کے ڈھل جانے تک
دیکھتا رہتا ہوں تارا کوئی جل جانے تک
پھر سلا دے گا اسے بحر کا اک گہرا سکوت
مستی ہے موج میں ساحل پہ مچل جانے تک
کیا ہوا اس کی گرہ میں ہے اگر اک دوری
میں بھی تو اس کا ہوں بس اس کے بدل جانے تک
ہے عجب شغل مِرا رات کے ڈھل جانے تک
دیکھتا رہتا ہوں تارا کوئی جل جانے تک
پھر سلا دے گا اسے بحر کا اک گہرا سکوت
مستی ہے موج میں ساحل پہ مچل جانے تک
کیا ہوا اس کی گرہ میں ہے اگر اک دوری
میں بھی تو اس کا ہوں بس اس کے بدل جانے تک
زخم کوئی اک بڑی مشکل سے بھر جانے کے بعد
مل گیا وہ پھر کہیں دل کے ٹھہر جانے کے بعد
میں نے وہ لمحہ پکڑنے میں کہاں تاخیر کی
سوچتا رہتا ہوں اب اس کے گزر جانے کے بعد
کیسا اور کب سے تعلق تھا ہمارا کیا کہوں؟
کچھ نہیں کہنے کو اب اس کے مُکر جانے کے بعد
یہ جو تنہائی ملی آنکھ میں دھرنے کے لیے
اس میں اک دشت بھی ہے میرے گزرنے کے لیے
جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے
صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے
پاؤں سے لپٹی ملی ساری کی ساری یہ زمیں
یہ فلک پورا ملا آنکھ میں دھرنے کے لیے
زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا
بات کیا تھی میں خفا جس پر زمانے سے ہوا
ایک پل میں اک جگہ سے اتنا روشن آسماں
کوئی تارہ بنتے بنتے ٹوٹ جانے سے ہوا
سوچتا رہتا ہوں میں اکثر کہ آغازِ جہاں
دن بنانے سے کہ پہلے شب بنانے سے ہوا
زخم کوئی اک بڑی مشکل سے بھر جانے کے بعد
مل گیا وہ پھر کہیں دل کے ٹھہر جانے کے بعد
میں نے وہ لمحہ پکڑنے میں کہاں تاخیر کی
سوچتا رہتا ہوں اب اس کے گزر جانے کے بعد
کیسا اور کب سے تعلق تھا ہمارا کیا کہوں؟
کچھ نہیں کہنے کو اب اس کے مُکر جانے کے بعد
نیکیوں سے خالی شہر
اگر سردیوں کی کسی رات کو
کوئی بھوکا گداگر
مِرے گھر پہ آواز دے
اس کو روٹی کا ٹکڑا نہ دوں گا
جھلستی ہوئی سخت دوپہر میں
کوئی بے کس مسافر
مِری کارگاہِ دل میں ابھی کام ہے زیادہ
کوئی چیز اک جگہ سے ذرا خام ہے زیادہ
کسی منظر شفق کو کہاں آنکھ میں جگہ دوں
مِرے خونِ دل سے رنگیں مِری شام ہے زیادہ
گھڑی بھر ٹھہرنے والے ذرا یہ خیال رکھنا
یہ جو سایۂ شجر ہے کوئی دام ہے زیادہ
مِرے بیش و کم کے پیچھے تِرا ہاتھ ہے زیادہ
مِرا دن بنانے والے مِری رات ہے زیادہ
یہاں ایک حد سے آگے کسی زعم میں نہ رہنا
تجھے چھوڑ جانے والا تِرے ساتھ ہے زیادہ
جو سرہانے رکھے رکھے شبِ غم میں سو گیا ہے
مِرا کام کرنے والا وہی ہاتھ ہے زیادہ
ڈوبنے والا تھا دن شام تھی ہونے والی
یوں لگا مِری کوئی چیز تھی کھونے والی
صبح کے ساتھ ہوئی ختم مِری رات کی گشت
رہ گئی ایک گلی شہر کے کونے والی
کتنا شفاف چمکتا ہوا دن تھا جس کی
دھوپ تھی پیار کی بارش میں بھگونے والی
ابھی تھوڑی سی جگہ خالی ہے
تمام آباد جگہوں کے درمیان
ابھی تھوڑی سی جگہ خالی ہے
میرے دل کے اندر
میں نے کتنی قیمت ادا کی ہے
اسے خالی رکھنے کی
نظم کا آغاز کرتا ہوں
جہاں بھی ہو اُداسی
آ ہی جاتی ہے خبر مجھ تک
کسی تنہا مسافر کا
پہنچ جاتا ہے سب رنجِ سفر مجھ تک
جہاں جتنی بھی ہو تنہائی
یہ برفزار بدن سے نہ جاں سے نکلے گا
لہو ہو سرد تو شعلہ کہاں سے نکلے گا
ہزار گھیرے رہے جبر کا حصارِ سیہ
کہ بابِ راہِ اماں درمیاں سے نکلے گا
جو تلخ حرف پسِ لب ہے عام بھی ہو گا
چڑھا ہے تیر تو آخر کماں سے نکلے گا
بہت مصروف رہتا ہوں
بہت مصروف رہتا ہوں
دلوں کے سرد موسم پر
چمکتی دھوپ کا ٹکڑا بچھانے میں
محبت کے کسی ویران ساحل پر
پڑی ہے موج چھوٹی سی
میرے حصے کی جگہ
میں جہاں کھڑا ہوں
بس اتنی جگہ میری ہے
گرم ہواؤں سے
میرا بدن چھلنی ہے
سرد پانیوں سے
میرے پاؤں شل ہیں
دیر سے کھُلنے والا راز
کوئی خواب تھا بڑا خوش قبا
جسے اوڑھ کر میں پڑا رہا
وہ جو خواب تھا اسی میں کہیں
تھا چھُپا ہوا کوئی جھُوٹ بھی اسی خواب کا
میری چشمِ بند پہ راز یہ بڑی دیر بعد کہیں کھُلا