Saturday, 7 August 2021

اگر سردیوں کی کسی رات کو کوئی بھوکا گداگر

نیکیوں سے خالی شہر


اگر سردیوں کی کسی رات کو

کوئی بھوکا گداگر

مِرے گھر پہ آواز دے

اس کو روٹی کا ٹکڑا نہ دوں گا

جھلستی ہوئی سخت دوپہر میں

کوئی بے کس مسافر

کہیں پیاس سے گر پڑے

اس کو پانی کا قطرہ نہ دوں گا

مِرا کوئی ہمسایہ ملکِ عدم کو سدھارے

تو اس کے جنازے کو کندھا نہ دوں گا

کسی نے مِری بے حسی کا سبب مجھ سے پوچھا

تو اس سے کہوں گا

مِرے شہر میں جس قدر نیکیاں تھیں

وہ اک شخص کی بے وفائی پہ رو کر

کہیں آسمانوں میں گم ہو گئی ہیں


جاوید شاہین

No comments:

Post a Comment