Showing posts with label بلال عاجز. Show all posts
Showing posts with label بلال عاجز. Show all posts

Wednesday, 14 September 2022

پا بستۂ زنجیر انا تو ہے کہ میں ہوں

 پا بستۂ زنجیرِ انا تُو ہے کہ میں ہوں

معلوم نہیں مجھ سے خفا تُو ہے کہ میں ہوں

خود اپنی مسیحائی کا اب مشورہ مت دے

اِس دردِ محبت کی دوا تُو ہے کہ میں ہوں

میں جب بھی تعرّض کوئی کرتا ہوں خدا سے

وہ مجھ سے یہ کہتا ہے خدا تُو ہے کہ میں ہوں

Friday, 19 August 2022

مجذوب صفت رکھتے ہیں کم خواہشِ دنیا

 مجذوب صفت رکھتے ہیں کم خواہشِ دنیا

ملتی نہیں دنیا میں ہر آسائشِ دنیا

جس دن سے مِری آنکھ لڑی حسنِ ازل سے

بھاتی نہیں آرائش و زیبائشِ دنیا

افسانۂ تازہ نہیں کج خُلقیِ انساں

بنیاد سے بے ڈھنگ ہے افزائشِ دنیا

Sunday, 14 August 2022

دو چار دن کی مہلت حسن عمل تو ہو

 حبل الورید سے پرے دستِ اجل تو ہو

دو چار دن کی مہلتِ حُسنِ عمل تو ہو

اُس یارِ آشنا سے ملاقات ہو، مگر

آپس میں بات چیت کا موقع محل تو ہو

محنت کشوں کے ہاتھ سے دنیا تو بن گئی

محنت کشوں کے ہاتھ میں محنت کا پھل تو ہو

Saturday, 13 August 2022

برق افگن ہے فلک سرو و سمن خطرے میں ہے

 برق افگن ہے فلک، سرو و سمن خطرے میں ہے

محض گُلچیں ہی نہیں سارا چمن خطرے میں ہے

اہلِ مذہب میں وہ شدت ہے کہ جس کے باعث

دین خطرے میں کبھی شاہِ زمن خطرے میں ہے

پھر تو اک ڈھونگ ہے ناقابلِ تسخیر دفاع

فوج ہر دور میں کہتی ہے وطن خطرے میں ہے

پیغام براہیم کا پرچار تو ہو گا

 پیغامِ براہیمؑ کا پرچار تو ہو گا

بتخانۂ آذر کبھی مسمار تو ہو گا

علم آنے سے اذہان پہ ضربیں تو پڑیں گی

آشوبِ خِرد درپئے آزار تو ہو گا

ہمت کروں اور جا کے درِ یار سے ہو آؤں

کچھ اور اگر ہو نہ ہو، دیدار تو ہو گا