پا بستۂ زنجیرِ انا تُو ہے کہ میں ہوں
معلوم نہیں مجھ سے خفا تُو ہے کہ میں ہوں
خود اپنی مسیحائی کا اب مشورہ مت دے
اِس دردِ محبت کی دوا تُو ہے کہ میں ہوں
میں جب بھی تعرّض کوئی کرتا ہوں خدا سے
وہ مجھ سے یہ کہتا ہے خدا تُو ہے کہ میں ہوں
پا بستۂ زنجیرِ انا تُو ہے کہ میں ہوں
معلوم نہیں مجھ سے خفا تُو ہے کہ میں ہوں
خود اپنی مسیحائی کا اب مشورہ مت دے
اِس دردِ محبت کی دوا تُو ہے کہ میں ہوں
میں جب بھی تعرّض کوئی کرتا ہوں خدا سے
وہ مجھ سے یہ کہتا ہے خدا تُو ہے کہ میں ہوں
مجذوب صفت رکھتے ہیں کم خواہشِ دنیا
ملتی نہیں دنیا میں ہر آسائشِ دنیا
جس دن سے مِری آنکھ لڑی حسنِ ازل سے
بھاتی نہیں آرائش و زیبائشِ دنیا
افسانۂ تازہ نہیں کج خُلقیِ انساں
بنیاد سے بے ڈھنگ ہے افزائشِ دنیا
حبل الورید سے پرے دستِ اجل تو ہو
دو چار دن کی مہلتِ حُسنِ عمل تو ہو
اُس یارِ آشنا سے ملاقات ہو، مگر
آپس میں بات چیت کا موقع محل تو ہو
محنت کشوں کے ہاتھ سے دنیا تو بن گئی
محنت کشوں کے ہاتھ میں محنت کا پھل تو ہو
برق افگن ہے فلک، سرو و سمن خطرے میں ہے
محض گُلچیں ہی نہیں سارا چمن خطرے میں ہے
اہلِ مذہب میں وہ شدت ہے کہ جس کے باعث
دین خطرے میں کبھی شاہِ زمن خطرے میں ہے
پھر تو اک ڈھونگ ہے ناقابلِ تسخیر دفاع
فوج ہر دور میں کہتی ہے وطن خطرے میں ہے
پیغامِ براہیمؑ کا پرچار تو ہو گا
بتخانۂ آذر کبھی مسمار تو ہو گا
علم آنے سے اذہان پہ ضربیں تو پڑیں گی
آشوبِ خِرد درپئے آزار تو ہو گا
ہمت کروں اور جا کے درِ یار سے ہو آؤں
کچھ اور اگر ہو نہ ہو، دیدار تو ہو گا