پیغامِ براہیمؑ کا پرچار تو ہو گا
بتخانۂ آذر کبھی مسمار تو ہو گا
علم آنے سے اذہان پہ ضربیں تو پڑیں گی
آشوبِ خِرد درپئے آزار تو ہو گا
ہمت کروں اور جا کے درِ یار سے ہو آؤں
کچھ اور اگر ہو نہ ہو، دیدار تو ہو گا
جو آدمی بس ایک ہی چکر میں پھنسا ہو
وہ روز کے معمول سے بیزار تو ہو گا
یوں ہی نہیں محدود مِرا حلقۂ احباب
ظاہر ہے کہ میرا کوئی معیار تو ہو گا
صدیوں کی گُھٹن سے کُہر آلود فضا ہے
ہر سانس طبیعت پہ گِراں بار تو ہو گا
حُکام کو طاقت کا نشہ ہے تو پھر ان کا
پتھر سے توانا بُتِ پندار تو ہو گا
بے وجہ مناظر یہ لہو رنگ نہیں ہیں
عاجز! کوئی فتنہ پسِ دیوار تو ہو گا
بلال عاجز
No comments:
Post a Comment