سوال شام پہ آیا جواب شب آخر
کشیدگی کا نہ پایا مگر سبب آخر
تمہارے غم مرے خواہاں نہ میرا اپنا وجود
کہاں سے لاؤں گی میں شدت طلب آخر
عنایت ان کی جو وہ حال پوچھ لیں ورنہ
کسی سے ان کے مراسم ہوئے ہیں کب آخر
سوال شام پہ آیا جواب شب آخر
کشیدگی کا نہ پایا مگر سبب آخر
تمہارے غم مرے خواہاں نہ میرا اپنا وجود
کہاں سے لاؤں گی میں شدت طلب آخر
عنایت ان کی جو وہ حال پوچھ لیں ورنہ
کسی سے ان کے مراسم ہوئے ہیں کب آخر
ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے
لب تک آئے تو وہی حرف ندامت ہو جائے
میری سوچیں، مِرا احساس، مِری ہی آواز
میرے شعروں سے مگر آپ کی شہرت ہو جائے
خاک ہو کر وہ ہواؤں میں بکھرنا چاہے
جب کسی کو در و دیوار سے وحشت ہو جائے
گزشتہ وقت کی ہر بات آنی جانی ہوئی
یہ بات اگلے سفر کی نئی نشانی ہوئی
لگا کے بیٹھ گئے شرط دست و بازو کی
اگرچہ دل میں ہے پہلے سے ہار مانی ہوئی
جدا کیا ہے اسے آپ ہی تو چپ کیوں ہو
بھلا یہ کون سے جذبے کی ترجمانی ہوئی
تکلفات میں لمحات مت گنوایا کر
بلا ارادہ بھی تھوڑا سا مسکرایا کر
ہمارے سامنے یہ وضع مت بنایا کر
فراخ دل ہے تو ہر بات بھول جایا کر
ہمارے شعر تِرا ذکر بات ایک ہی ہے
ہمارے شعر ہمیں یاد مت دلایا کر
پرکھ سکو تو محبت کا اک مزاج ہیں ہم
کل اس طرح نہیں مل پائیں گے جو آج ہیں ہم
کوئی خطائے محبت ازل میں کر لی تھی
زبان شعر میں بھیجا ہوا خراج ہیں ہم
اس اک ہنر سے خدا سب کو فیض یاب کرے
کہ اب بھی جس کے لیے وقف احتیاج ہیں ہم