بات کیا بات کا خلاصہ ہے
تُو مِری آخری تمنّا ہے
اے شبِ ہجر چھوڑ ذکرِ فراق
تُو بتا تیرا کیا ارادہ ہے؟
آپ پھر کل کی بات کرتے ہیں
ہم نے مر مر کے آج دیکھا ہے
بات کیا بات کا خلاصہ ہے
تُو مِری آخری تمنّا ہے
اے شبِ ہجر چھوڑ ذکرِ فراق
تُو بتا تیرا کیا ارادہ ہے؟
آپ پھر کل کی بات کرتے ہیں
ہم نے مر مر کے آج دیکھا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو بھى اُنؐ کا غلام ہو جائے
واجبُ الاِحترام ہو جائے
جو بھی جُھک جائے اُنؐ کى چوکھٹ پر
وہى عالى مُقام ہو جائے
کوثر و سلسبیل کے مالک
بھیک میں ایک جام ہو جائے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپؐ ہی کو پکارا ہے خیرالبشر
آپؐ ہی کا سہارا ہے خیرالبشر
بحرِ عصیاں کراں تا کراں الاماں
عاصیوں کا کنارا ہے خیرالبشر
خیر پاتے ہیں اپنے پرائے سبھی
رحمتوں کا منارا ہے خیرالبشر
دوسری بات نہ پہلی وہ بتائے مجھ کو
روز لفظوں کا نیا کھیل سِکھائے مجھ کو
ایک بھى عکس مُکمل نہ دِکھائے مجھ کو
اتنا اُلجھا ہوں کہ اُلٹا نظر آئے مجھ کو
پہلے کى طرح اگر پھر بھى مجھے توڑنا ہے
اُس سے کہہ دو کہ دوبارہ نہ بنائے مجھ کو