Showing posts with label رشید رامپوری. Show all posts
Showing posts with label رشید رامپوری. Show all posts

Friday, 8 October 2021

اٹھ کر ترے در سے کہیں جانے کے نہیں ہم

 اٹھ کر تِرے در سے کہیں جانے کے نہیں ہم

محتاج کسی اور ٹھکانے کے نہیں ہم

ٹھہرا ہے عیادت پہ سفر ملکِ عدم کا

آنے کے نہیں آپ تو جانے کے نہیں ہم

جو تم نے لگائی ہے وہ ہے قدر کے قابل

اس آگ کو اشکوں سے بجھانے کے نہیں ہم

Tuesday, 5 October 2021

محبت میں دل سختیاں اور بھی ہیں

 محبت میں دل سختیاں اور بھی ہیں

اٹھانے کو سنگِ گراں اور بھی ہیں

دھواں میری آہوں کا چھایا ہوا ہے

تہِ آسماں، آسماں اور بھی ہیں

ستانا، جلانا ہی آتا ہے تم کو

سوا اس کے کچھ خوبیاں اور بھی ہیں

Monday, 4 October 2021

دل کی کیا قدر ہو مہماں کبھی آئے نہ گئے

 دل کی کیا قدر ہو مہماں کبھی آئے نہ گئے

اس مکاں میں تِرے پیکاں کبھی آئے نہ گئے

آپ عشق گل و بلبل کی روش کیا جانیں

اندرونِ چمنستاں کبھی آئے نہ گئے

ہم نے گھر اپنا ہی وحشت میں بیاباں سمجھا

بُھول کر سُوئے بیاباں کبھی آئے نہ گئے

Thursday, 1 April 2021

دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

 دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

نہ گئیں آہ و زاریاں نہ گئیں

دن کو چھوٹا نہ انتظار ان کا

شب کو اختر شماریاں نہ گئیں

نہ چھپا گریۂ شب فرقت

رخ سے اشکوں کی دھاریاں نہ گئیں

Friday, 6 November 2015

مرا نام قیس کیونکر ترے نام تک نہ پہنچے

مِرا نام قیس کیوں کر تِرے نام تک نہ پہنچے
بخدا وہ مقتدی کیا جو امام تک نہ پہنچے
وہ حیاتِ عارضی کیا جو دوام تک نہ پہنچے
وہ اصولِ زندگی کیا جو نظام تک نہ پہنچے
جو مجھے ذلیل کہہ کر مجھے پوچھتے ہو سب سے
مِری ذات تک تو پہنچے، مِرے نام تک نہ پہنچے