اٹھ کر تِرے در سے کہیں جانے کے نہیں ہم
محتاج کسی اور ٹھکانے کے نہیں ہم
ٹھہرا ہے عیادت پہ سفر ملکِ عدم کا
آنے کے نہیں آپ تو جانے کے نہیں ہم
جو تم نے لگائی ہے وہ ہے قدر کے قابل
اس آگ کو اشکوں سے بجھانے کے نہیں ہم
اٹھ کر تِرے در سے کہیں جانے کے نہیں ہم
محتاج کسی اور ٹھکانے کے نہیں ہم
ٹھہرا ہے عیادت پہ سفر ملکِ عدم کا
آنے کے نہیں آپ تو جانے کے نہیں ہم
جو تم نے لگائی ہے وہ ہے قدر کے قابل
اس آگ کو اشکوں سے بجھانے کے نہیں ہم
محبت میں دل سختیاں اور بھی ہیں
اٹھانے کو سنگِ گراں اور بھی ہیں
دھواں میری آہوں کا چھایا ہوا ہے
تہِ آسماں، آسماں اور بھی ہیں
ستانا، جلانا ہی آتا ہے تم کو
سوا اس کے کچھ خوبیاں اور بھی ہیں
دل کی کیا قدر ہو مہماں کبھی آئے نہ گئے
اس مکاں میں تِرے پیکاں کبھی آئے نہ گئے
آپ عشق گل و بلبل کی روش کیا جانیں
اندرونِ چمنستاں کبھی آئے نہ گئے
ہم نے گھر اپنا ہی وحشت میں بیاباں سمجھا
بُھول کر سُوئے بیاباں کبھی آئے نہ گئے
دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں
نہ گئیں آہ و زاریاں نہ گئیں
دن کو چھوٹا نہ انتظار ان کا
شب کو اختر شماریاں نہ گئیں
نہ چھپا گریۂ شب فرقت
رخ سے اشکوں کی دھاریاں نہ گئیں