رہے گا دن کا تصور نہ شہرِ شب کا وجود
مٹے گا موج قیامت میں اب کے سب کا وجود
یہ وہ ادب ہے جسے گردباد کہتے ہیں
یہاں تلاش نہ کر دوستا ادب کا وجود
وہ سبز جھیل سی آنکھیں وہ سرخ پھول سے لب
تیرا وجود ہے جاناں بڑے غضب کا وجود
رہے گا دن کا تصور نہ شہرِ شب کا وجود
مٹے گا موج قیامت میں اب کے سب کا وجود
یہ وہ ادب ہے جسے گردباد کہتے ہیں
یہاں تلاش نہ کر دوستا ادب کا وجود
وہ سبز جھیل سی آنکھیں وہ سرخ پھول سے لب
تیرا وجود ہے جاناں بڑے غضب کا وجود
زہر کو جان کے زخموں کی دوا، لیتے ہیں
تیری تصویر کو سینے سے لگا لیتے ہیں
تو اگر غم کا صحیفہ ہے تو پڑھتے ہیں تجھے
جشنِ امید اگر ہے تو منا لیتے ہیں
ہم سے مر کھپ کے بھی اک ہجر کا چارہ نہ ہوا
آپ اچھے ہیں ہر اک بات بنا لیتے ہیں
کس طرح شام و سحر شور میں رہتی ہو گی
کتنی مشکل سے وہ لاہور میں رہتی ہو گی
میں بھی اس شوخ کی چاہت میں ہوں بے تاب میاں
وہ بھی ہر وقت مِرے غور میں رہتی ہو گی
اس کے لہجے سے جھلکتی نہیں دِلّی کی زباں
پانی پت یا کہیں بنگلور میں رہتی ہو گی
ہر شخص اپنے قد کے برابر لگے مجھے
یہ بات سوچ سوچ کے ہی ڈر لگے مجھے
اس نے فقط کہا تھا کہ؛ میں آپ کا نہیں
پھر اس کے بعد پھُول بھی پتھر لگے مجھے
جس دن تمہارے خط کا مجھے انتظار تھا
اس دن تمـام پنچھی کبوتر لگے مجھے
میں نے تیری یاد بھُلا دی شہزادی
تاج محل کو آگ لگا دی شہزادی
میل دلوں کا کر کے اپنے مالک نے
بیچ میں اک دیوار اٹھا دی شہزادی
ہم بھی خوب ہنسے دنیا کی حالت پر
دنیا نے بھی خوب سزا دی شہزادی
بے سبب کیسے بھلا دھوپ میں سایہ ہوا ہے
میں نے اک پیڑ سرِ راہ لگایا ہوا ہے
یہ پرندہ جو مِرے صحن میں آ بیٹھا ہے
یہ کسی اور کے پنجرے سے اُڑایا ہوا ہے
دل تو جلتا ہے کسی دردِ جدائی سے مِرا
اور ہونٹوں کو بھی سگرٹ سے جلایا ہوا ہے
کوئی بھی کام میرے بس کا نہیں
اور یہ مسئلہ قفس کا نہیں
بوسہ، ہگ، شیک ہینڈ، یہ کیا ہے
مجھے ایسا کوئی بھی چسکا نہیں
آپ مجھ سے بھی خوبصورت ہیں
اور یہ میری جان مسکا نہیں
پیڑ کو اس کا کبھی ہاتھ اگر لگ جائے
شاخچے جھکنے لگیں اتنا ثمر لگ جائے
دل کی مرضی ہے ادھر یا کہ ادھر لگ جائے
پھر یہ رکتا نہیں اک بار جدھر لگ جائے
دوست وہ قبر کی دہلیز تک آ جاتا ہے
جس کو اس فتنۂ خوشرو کی نظر لگ جائے