Showing posts with label علی رومی. Show all posts
Showing posts with label علی رومی. Show all posts

Saturday, 19 March 2022

رہے گا دن کا تصور نہ شہر شب کا وجود

 رہے گا دن کا تصور نہ شہرِ شب کا وجود

مٹے گا موج قیامت میں اب کے سب کا وجود

یہ وہ ادب ہے جسے گردباد کہتے ہیں

یہاں تلاش نہ کر دوستا ادب کا وجود

وہ سبز جھیل سی آنکھیں وہ سرخ پھول سے لب

تیرا وجود ہے جاناں بڑے غضب کا وجود

Saturday, 4 September 2021

زہر کو جان کے زخموں کی دوا لیتے ہیں

 زہر کو جان کے زخموں کی دوا، لیتے ہیں

تیری تصویر کو سینے سے لگا لیتے ہیں

تو اگر غم کا صحیفہ ہے تو پڑھتے ہیں تجھے

جشنِ امید اگر ہے تو منا لیتے ہیں

ہم سے مر کھپ کے بھی اک ہجر کا چارہ نہ ہوا

آپ اچھے ہیں ہر اک بات بنا لیتے ہیں

Friday, 18 June 2021

کس طرح شام و سحر شور میں رہتی ہو گی

 کس طرح شام و سحر شور میں رہتی ہو گی

کتنی مشکل سے وہ لاہور میں رہتی ہو گی

میں بھی اس شوخ کی چاہت میں ہوں بے تاب میاں

وہ بھی ہر وقت مِرے غور میں رہتی ہو گی

اس کے لہجے سے جھلکتی نہیں دِلّی کی زباں

پانی پت یا کہیں بنگلور میں رہتی ہو گی

Thursday, 18 March 2021

ہر شخص اپنے قد کے برابر لگے مجھے

 ہر شخص اپنے قد کے برابر لگے مجھے

یہ بات سوچ سوچ کے ہی ڈر لگے مجھے

اس نے فقط کہا تھا کہ؛ میں آپ کا نہیں

پھر اس کے بعد  پھُول بھی پتھر لگے مجھے

جس دن تمہارے خط کا مجھے انتظار تھا

اس دن تمـام پنچھی کبوتر لگے مجھے

Monday, 15 March 2021

میں نے تیری یاد بھلا دی شہزادی

 میں نے تیری یاد بھُلا دی شہزادی

تاج محل کو آگ لگا دی شہزادی

میل دلوں کا کر کے اپنے مالک نے

بیچ میں اک دیوار اٹھا دی شہزادی

ہم بھی خوب ہنسے دنیا کی حالت پر

دنیا نے بھی خوب سزا دی شہزادی

Sunday, 14 March 2021

بے سبب کیسے بھلا دھوپ میں سایہ ہوا ہے

 بے سبب کیسے بھلا دھوپ میں سایہ ہوا ہے 

میں نے اک پیڑ سرِ راہ لگایا ہوا ہے

یہ پرندہ جو مِرے صحن میں آ بیٹھا ہے 

یہ کسی اور کے پنجرے سے اُڑایا ہوا ہے

دل تو جلتا ہے کسی دردِ جدائی سے مِرا 

اور ہونٹوں کو بھی سگرٹ سے جلایا ہوا ہے

Saturday, 13 March 2021

کوئی بھی کام میرے بس کا نہیں

 کوئی بھی کام میرے بس کا نہیں 

اور یہ مسئلہ قفس کا نہیں

بوسہ، ہگ، شیک ہینڈ، یہ کیا ہے

مجھے ایسا کوئی بھی چسکا نہیں

آپ مجھ سے بھی خوبصورت ہیں

اور یہ میری جان مسکا نہیں

Thursday, 11 March 2021

پیڑ کو اس کا کبھی ہاتھ اگر لگ جائے

  پیڑ کو اس کا کبھی ہاتھ اگر لگ جائے

شاخچے جھکنے لگیں اتنا ثمر لگ جائے

دل کی مرضی ہے ادھر یا کہ ادھر لگ جائے

پھر یہ رکتا نہیں اک بار جدھر لگ جائے

دوست وہ قبر کی دہلیز تک آ جاتا ہے

جس کو اس فتنۂ خوشرو کی نظر لگ جائے