پیڑ کو اس کا کبھی ہاتھ اگر لگ جائے
شاخچے جھکنے لگیں اتنا ثمر لگ جائے
دل کی مرضی ہے ادھر یا کہ ادھر لگ جائے
پھر یہ رکتا نہیں اک بار جدھر لگ جائے
دوست وہ قبر کی دہلیز تک آ جاتا ہے
جس کو اس فتنۂ خوشرو کی نظر لگ جائے
ایسے اِلہام ہوئی تیری تمنا مجھ میں
جیسے بے آب جزیرے پہ شجر لگ جائے
اتنا حساس ہوں اتنا کہ یہی چاہتا ہوں
دل کسی سے مِرا دورانِ سفر لگ جائے
علی قیصر رومی
No comments:
Post a Comment