Thursday, 11 March 2021

پیڑ کو اس کا کبھی ہاتھ اگر لگ جائے

  پیڑ کو اس کا کبھی ہاتھ اگر لگ جائے

شاخچے جھکنے لگیں اتنا ثمر لگ جائے

دل کی مرضی ہے ادھر یا کہ ادھر لگ جائے

پھر یہ رکتا نہیں اک بار جدھر لگ جائے

دوست وہ قبر کی دہلیز تک آ جاتا ہے

جس کو اس فتنۂ خوشرو کی نظر لگ جائے

ایسے اِلہام ہوئی تیری تمنا مجھ میں

جیسے بے آب جزیرے پہ شجر لگ جائے

اتنا حساس ہوں اتنا کہ یہی چاہتا ہوں

دل کسی سے مِرا دورانِ سفر لگ جائے


علی قیصر رومی 


No comments:

Post a Comment