عارفانہ کلام منقبت سلام بر مولیٰ علی
یا علی یا علی یا علی یا علی
یا علی یا علی یا علی یا علی
تجھ پہ نازل ہوئی انما یا علی
ھل اتیٰ کل کفیٰ لا فتیٰ یا علی
یعنی قرآں ہے تیری ثنا یا علی
عارفانہ کلام منقبت سلام بر مولیٰ علی
یا علی یا علی یا علی یا علی
یا علی یا علی یا علی یا علی
تجھ پہ نازل ہوئی انما یا علی
ھل اتیٰ کل کفیٰ لا فتیٰ یا علی
یعنی قرآں ہے تیری ثنا یا علی
تیری آنکھیں تِری صورت تِرا چہرہ دیکھوں
دل بضد ہے کہ تِرے حسن کا جلوہ دیکھوں
تم جو اغیار سے بے پردہ مِلا کرتی ہو
چاند سے چہرے پہ دل کہتا ہے پردہ دیکھوں
مثلِ یوسف سرِ بازار تو آؤں، لیکن
تیرے اندر بھی تو وہ کارِ زلیخا دیکھوں
اشکوں کو مِرے یار چھپا کیوں نہیں دیتے
سب سوگ میں ہیں لوگ، صدا کیوں نہیں دیتے
ڈرتے ہو جو لوگوں سے تو اے جانِ تمنا
چپ چاپ مجھے آپ بھلا کیوں نہیں دیتے
جب بات کرو ڈھنگ سے تب ہم بھی کریں گے
ورنہ یہ رقیبوں کو سنا کیوں نہیں دیتے
مجھ کو وحشت مل گئی اور وہ جیا اچھا ہوا
پڑھنے والوں کے لیے ساماں ہوا اچھا ہوا
میں ہوا بے گھر مگر تم کو ٹھکانہ مل گیا
تیری میری زندگی کا فیصلہ اچھا ہوا
سامنے منزل تھی پر آواز آئی لوٹ جا
یوں مِری تقدیر کا سودا ہوا اچھا ہوا
"کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہو گا"
لیے نفرت کی وہ خنجر مجھے ہی ڈھونڈتا ہو گا
کبھی جب چہچہاتی کوئی لڑکی سامنے گزرے
تو واعظ تھام کر دل کو اسے ہی گھورتا ہو گا
مِری حالت بتا دوں کیا، زرا سوچو تو ماہی کا
🐟بِنا پانی لبِ دریا تڑپنا تو سنا ہو گا🐟