جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں درمیاں سے اٹھتا ہے
رات بھر دھونکنے پہ مشکل سے
''شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے''
مار لاتا ہے جوتیاں دو چار
''جو تِرے آستاں سے اٹھتا ہے''
جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں درمیاں سے اٹھتا ہے
رات بھر دھونکنے پہ مشکل سے
''شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے''
مار لاتا ہے جوتیاں دو چار
''جو تِرے آستاں سے اٹھتا ہے''
میں نے یہ کہا کب کہ منانے کے لیے آ
مجھ کاٹھ کے الو کو پھنسانے کے لیے آ
میرے لیے آ اور نہ زمانے کے لیے آ
بچے کو فقط دودھ پلانے کے لیے آ
ہر روز وہی گوشت وہی گوشت وہی گوشت
اک دن تو کبھی دال پکانے کے لیے آ
روشن خیالی
دل و دماغ تصور مزاج حسن بیاں
کبھی کے ہو چکے روشن
تجلیوں کے طفیل
تجلیاں جنہیں روشن خیالیاں کہیے
عظیم ذہن جب اس روشنی میں ڈوب چکا
تو پھر عظیم تصوّر وجود میں آئے
کچھ نئے نقش محبت میں اُبھارو یارو
سر کسی شوخ کی بلڈنگ سے مارو یارو
زُلف کے پیچ میں لٹکے ہوئے شاعر کا وجود
تھک چکا ہو گا، اسے مِل کے اُتارو یارو
وہ بھرے گھر سے گھسیٹے لیے جاتی ہے مجھے
کوئی بڑھ کر مِری بیوی کو پُکارو یارو