Showing posts with label یوسف پاپا. Show all posts
Showing posts with label یوسف پاپا. Show all posts

Tuesday, 23 December 2025

جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے

 جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں درمیاں سے اٹھتا ہے

رات بھر دھونکنے پہ مشکل سے

''شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے''

مار لاتا ہے جوتیاں دو چار

''جو تِرے آستاں سے اٹھتا ہے''

Monday, 25 August 2025

میں نے یہ کہا کب کہ منانے کے لیے آ

 میں نے یہ کہا کب کہ منانے کے لیے آ

مجھ کاٹھ کے الو کو پھنسانے کے لیے آ

میرے لیے آ اور نہ زمانے کے لیے آ

بچے کو فقط دودھ پلانے کے لیے آ

ہر روز وہی گوشت وہی گوشت وہی گوشت

اک دن تو کبھی دال پکانے کے لیے آ

Friday, 30 April 2021

روشن خیالی دل و دماغ تصور مزاج حسن بیاں

روشن خیالی


دل و دماغ تصور مزاج حسن بیاں

کبھی کے ہو چکے روشن

تجلیوں کے طفیل

تجلیاں جنہیں روشن خیالیاں کہیے

عظیم ذہن جب اس روشنی میں ڈوب چکا

تو پھر عظیم تصوّر وجود میں آئے

Monday, 5 April 2021

کچھ نئے نقش محبت میں ابھارو یارو

کچھ نئے نقش محبت میں اُبھارو یارو

سر کسی شوخ کی بلڈنگ سے مارو یارو

زُلف کے پیچ میں لٹکے ہوئے شاعر کا وجود

تھک چکا ہو گا، اسے مِل کے اُتارو یارو

وہ بھرے گھر سے گھسیٹے لیے جاتی ہے مجھے

کوئی بڑھ کر مِری بیوی کو پُکارو یارو