Showing posts with label ملک زادہ جاوید. Show all posts
Showing posts with label ملک زادہ جاوید. Show all posts

Saturday, 16 October 2021

کرب چہروں پہ سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں

 کرب چہروں پہ سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم وطن چھوڑ کے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

زندگی ایک کہانی کے سوا کچھ بھی نہیں

لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

عمر بھر جن کو میسر نہیں ہوتی منزل

خاک راہوں میں اڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں

Friday, 8 October 2021

کسی نیزے پہ کوئی سر نہیں ہے

 کسی نیزے پہ کوئی سر نہیں ہے

شجاعت سے بھرا لشکر نہیں ہے

پُرانے لوگ اُکساتے ہیں, ورنہ

نئی نسلوں میں بالکل شر نہیں ہے

سبھی گملے اُٹھا لایا ہوں گھر میں

مجھے اب موسموں کا ڈر نہیں ہے

Thursday, 7 October 2021

اندھیروں سے مرا رشتہ بہت ہے

 اندھیروں سے مِرا رشتہ بہت ہے

میں جگنوں ہوں مجھے دکھتا بہت ہے

وطن کو چھوڑ کر ہرگز نہ جانا

مہاجر آنکھ میں چُبھتا بہت ہے

خوشی سے اس کی تم دھوکا نہ کھانا

پریشانی میں وہ ہنستا بہت ہے

Wednesday, 6 October 2021

ایک تصویر بولتی ہوئی ہے

 ایک تصویر بولتی ہوئی ہے

دل کی دیوار پر ٹنگی ہوئی ہے

ہو گیا ہے خطا نشانہ مِرا

آپ کی زندگی بچی ہوئی ہے

آخری بار میں ملا تھا جہاں

وہ وہیں پر ابھی کھڑی ہوئی ہے

Tuesday, 5 October 2021

خیال اس کا مجھے ہر سفر میں رہتا ہے

 خیال اس کا مجھے ہر سفر میں رہتا ہے

کہیں بھی جاؤں مدینہ نظر میں رہتا ہے

وہ ہو عروج کا موسم کہ ہو زوال کی رُت

تِرے حوالے سے پتہ شجر میں رہتا ہے

سُلگی دُھوپ مِرا امتحان کیا لے گی

وہ چھاؤں بن کے مِری دوپہر میں رہتا ہے

Monday, 15 February 2021

جدھر دیکھو ستمگر بولتے ہیں

 جدھر دیکھو ستمگر بولتے ہیں

میری چھت پر کبوتر بولتے ہیں

ذرا سے نام اور تشہیر پا کر

ہم اپنے قد سے بڑھ کر بولتے ہیں

کھنڈر میں بیٹھ کر ایک بار دیکھو

گئے وقتوں کے پتھر بولتے ہیں