کرب چہروں پہ سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم وطن چھوڑ کے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
زندگی ایک کہانی کے سوا کچھ بھی نہیں
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
عمر بھر جن کو میسر نہیں ہوتی منزل
خاک راہوں میں اڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں
کرب چہروں پہ سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم وطن چھوڑ کے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
زندگی ایک کہانی کے سوا کچھ بھی نہیں
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
عمر بھر جن کو میسر نہیں ہوتی منزل
خاک راہوں میں اڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں
کسی نیزے پہ کوئی سر نہیں ہے
شجاعت سے بھرا لشکر نہیں ہے
پُرانے لوگ اُکساتے ہیں, ورنہ
نئی نسلوں میں بالکل شر نہیں ہے
سبھی گملے اُٹھا لایا ہوں گھر میں
مجھے اب موسموں کا ڈر نہیں ہے
اندھیروں سے مِرا رشتہ بہت ہے
میں جگنوں ہوں مجھے دکھتا بہت ہے
وطن کو چھوڑ کر ہرگز نہ جانا
مہاجر آنکھ میں چُبھتا بہت ہے
خوشی سے اس کی تم دھوکا نہ کھانا
پریشانی میں وہ ہنستا بہت ہے
ایک تصویر بولتی ہوئی ہے
دل کی دیوار پر ٹنگی ہوئی ہے
ہو گیا ہے خطا نشانہ مِرا
آپ کی زندگی بچی ہوئی ہے
آخری بار میں ملا تھا جہاں
وہ وہیں پر ابھی کھڑی ہوئی ہے
خیال اس کا مجھے ہر سفر میں رہتا ہے
کہیں بھی جاؤں مدینہ نظر میں رہتا ہے
وہ ہو عروج کا موسم کہ ہو زوال کی رُت
تِرے حوالے سے پتہ شجر میں رہتا ہے
سُلگی دُھوپ مِرا امتحان کیا لے گی
وہ چھاؤں بن کے مِری دوپہر میں رہتا ہے
جدھر دیکھو ستمگر بولتے ہیں
میری چھت پر کبوتر بولتے ہیں
ذرا سے نام اور تشہیر پا کر
ہم اپنے قد سے بڑھ کر بولتے ہیں
کھنڈر میں بیٹھ کر ایک بار دیکھو
گئے وقتوں کے پتھر بولتے ہیں