Saturday, 16 October 2021

کرب چہروں پہ سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں

 کرب چہروں پہ سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم وطن چھوڑ کے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

زندگی ایک کہانی کے سوا کچھ بھی نہیں

لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

عمر بھر جن کو میسر نہیں ہوتی منزل

خاک راہوں میں اڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کچھ پرندے ہیں جو سوکھے ہوئے دریاؤں سے

علم کی پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

زندہ رہتے ہیں کئی لوگ مسافر کی طرح

جو سفر میں کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ان کا پیغام ملا کرتا ہے غیروں سے مجھے

وہ مِرے پاس خود آتے ہوئے مر جاتے ہیں

جن کو اپنوں سے توجہ نہیں ملتی جاوید

ہاتھ غیروں سے ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں


ملک زادہ جاوید

No comments:

Post a Comment