Showing posts with label نور امروہوی. Show all posts
Showing posts with label نور امروہوی. Show all posts

Thursday, 27 August 2026

کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں

 نہ ہو ان کا جب سایہ دعائیں کام آتی ہیں

کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں

سکوتِ شب میں یادوں کی صدائیں کام آتی ہیں

مجھے تیرے دوپٹے کی ہوائیں کام آتی ہیں

یہ بیٹے زندگی میں آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں

مگر یہ بیٹیاں تو دائیں بائیں کام آتی ہیں

Friday, 26 December 2025

ہم نے بنا کے عشق کا معیار رکھ دیا

 ہم نے بنا کے عشق کا معیار رکھ دیا

دل کو حضورِ سنگِ درِ یار رکھ دیا

جب بھی سنی ہے اس سے ملاقات کی خبر

ہم نے بھی اپنے ہاتھ سے اخبار رکھ دیا

تقسیمِ جائیداد کی ایسی ملی خوشی

اس نے بھُلا کے باپ کا کردار رکھ دیا

Thursday, 16 January 2025

برہنہ لفظ ہیں عریاں قلم ہونے لگا ہے

 برہنہ لفظ ہیں عریاں قلم ہونے لگا ہے

نمایاں شعر میں پہلوئے ذم ہونے لگا ہے

کوئی ڈالر کا شیدائی، تو کوئی پونڈ کا ہے

ادب معیارِ دینار و درہم ہونے لگا ہے

پڑھے لکھے بھی کرتے ہیں بینائی کا شکوہ

کُتب بینی کا جب سے شوق کم ہونے لگا ہے

Wednesday, 15 January 2025

وہ جن کے گھر میں دیا تک نہ تھا جلانے کو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہ جن کے گھر میں دِیا تک نہ تھا جلانے کو

انہیں سے روشنی ملتی ہے ہر زمانے کو

دلِ حزِیں تو بہت چاہتا ہے ہے آنے کو

حضورؐ کچھ بھی نہیں پاس منہ دِکھانے کو

نبیؐ کے ذکر کی تسبیح چھوڑنے والے

بروزِ حشر ترستے ہیں دانے دانے کو

Wednesday, 29 September 2021

کوئی رستے کا پتھر بن گیا ہے

کوئی رستے کا پتھر بن گیا ہے

بچھڑنا ہی مقدر بن گیا ہے💢

جہاں بچھڑے تھے ہم اک بار مل کے

کسی کا اس جگہ گھر بن گیا ہے

اسے کرنا تھی بیٹی کی حفاظت

سپاہی سے وہ لشکر بن گیا ہے