نہ ہو ان کا جب سایہ دعائیں کام آتی ہیں
کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں
سکوتِ شب میں یادوں کی صدائیں کام آتی ہیں
مجھے تیرے دوپٹے کی ہوائیں کام آتی ہیں
یہ بیٹے زندگی میں آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں
مگر یہ بیٹیاں تو دائیں بائیں کام آتی ہیں
نہ ہو ان کا جب سایہ دعائیں کام آتی ہیں
کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں
سکوتِ شب میں یادوں کی صدائیں کام آتی ہیں
مجھے تیرے دوپٹے کی ہوائیں کام آتی ہیں
یہ بیٹے زندگی میں آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں
مگر یہ بیٹیاں تو دائیں بائیں کام آتی ہیں
ہم نے بنا کے عشق کا معیار رکھ دیا
دل کو حضورِ سنگِ درِ یار رکھ دیا
جب بھی سنی ہے اس سے ملاقات کی خبر
ہم نے بھی اپنے ہاتھ سے اخبار رکھ دیا
تقسیمِ جائیداد کی ایسی ملی خوشی
اس نے بھُلا کے باپ کا کردار رکھ دیا
برہنہ لفظ ہیں عریاں قلم ہونے لگا ہے
نمایاں شعر میں پہلوئے ذم ہونے لگا ہے
کوئی ڈالر کا شیدائی، تو کوئی پونڈ کا ہے
ادب معیارِ دینار و درہم ہونے لگا ہے
پڑھے لکھے بھی کرتے ہیں بینائی کا شکوہ
کُتب بینی کا جب سے شوق کم ہونے لگا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ جن کے گھر میں دِیا تک نہ تھا جلانے کو
انہیں سے روشنی ملتی ہے ہر زمانے کو
دلِ حزِیں تو بہت چاہتا ہے ہے آنے کو
حضورؐ کچھ بھی نہیں پاس منہ دِکھانے کو
نبیؐ کے ذکر کی تسبیح چھوڑنے والے
بروزِ حشر ترستے ہیں دانے دانے کو
کوئی رستے کا پتھر بن گیا ہے
بچھڑنا ہی مقدر بن گیا ہے💢
جہاں بچھڑے تھے ہم اک بار مل کے
کسی کا اس جگہ گھر بن گیا ہے
اسے کرنا تھی بیٹی کی حفاظت
سپاہی سے وہ لشکر بن گیا ہے