یہ غم نہیں ہے کہ اب آہِ نارسا بھی نہیں
یہ کیا ہوا کہ مِرے لب پہ التجا بھی نہیں
ستم ہے، اب بھی امیدِ وفا پہ جیتا ہے
وہ کم نصیب کہ شائستۂ جفا بھی نہیں
نگاہِ ناز، عبارت ہے زندگی جس سے
شریکِ درد تو کیا، درد آشنا بھی نہیں
یہ غم نہیں ہے کہ اب آہِ نارسا بھی نہیں
یہ کیا ہوا کہ مِرے لب پہ التجا بھی نہیں
ستم ہے، اب بھی امیدِ وفا پہ جیتا ہے
وہ کم نصیب کہ شائستۂ جفا بھی نہیں
نگاہِ ناز، عبارت ہے زندگی جس سے
شریکِ درد تو کیا، درد آشنا بھی نہیں
ہنستے یاروں کی دلآزاری نہیں ہو سکتی
دل! ابھی تیری عزاداری نہیں ہو سکتی
طیش میں بات کوئی ذہن میں بیٹھے گی کہاں
سخت موسم میں شجر کاری نہیں ہو سکتی
آنکھ باقی ہے مگر ذوقِ نظر خرچ ہوا
جیب خالی سے خریداری نہیں ہو سکتی
حق ہے تجھے جسے بھی تُو چاہے غلط سمجھ
کم تر مگر کسی کو مِرے یار مت سمجھ
چلتا ہے کاروبارِِ وفا اعتبار پر
جو کہہ دیا گیا ہے اسے دستخط سمجھ
پسپا ہوئے محاذ سے ہم جان بُوجھ کر
یہ بُزدلی نہیں ہے اسے مصلحت سمجھ
یہ راز شاید آپ کے ادراک میں نہیں
انسان گفتگو میں ہے، پوشاک میں نہیں
کیا رنگ روپ ہیں کہ جو اِس خاک میں نہیں
اب گردشیں مگر وہ تِرے چاک میں نہیں
کیونکر کوئی سنبھال کے رکھتا ہمیں بھلا
شامل جو ہم کسی کی بھی اِملاک میں نہیں
خیر سے آپ جو جذبات میں آئے ہوئے ہیں
ہم بھی ایسے ہی تھے، اوقات میں آئے ہوئے ہیں
خرچ کیجے مگر، اصراف مناسب تو نہیں
مان لیتے ہیں کہ خیرات میں آئے ہوئے ہیں
آ کسی روز اسے تھوڑی نصیحت کر جا
وسوسے کچھ دلِ کم ذات میں آئے ہوئے ہیں
شور ہے گیت جو لَے سے نہ ہم آہنگ رہے
تودۂ خاک ہے تن، روح نہ گر سنگ رہے
یہ الگ بات کہ وہ اگلے نہیں ڈھنگ رہے
کیسے ممکن ہے محبت نہ رہے جھنگ رہے
تپشِ خواب کہیں نیند کو ہی چاٹ نہ لے
دیر تک دھوپ میں کب شوخ کوئی رنگ رہے
پھیلتا جاتا ہے دریا کا کنارہ کافی
میری مٹی ابھی سہنا ہے خسارہ کافی
کُھل کے ہوتی نہیں ہر بات بتانے والی
صاحبِ فہم کو ہوتا ہے اِشارہ کافی
کہکشاؤں پہ تسلط کی ہوس میں گُم ہے
ذرۂ خاک کو تھا ایک ستارہ کافی