Showing posts with label حبیب احمد. Show all posts
Showing posts with label حبیب احمد. Show all posts

Saturday, 17 July 2021

یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیں

 یہ غم نہیں ہے کہ اب آہِ نارسا بھی نہیں

یہ کیا ہوا کہ مِرے لب پہ التجا بھی نہیں

ستم ہے، اب بھی امیدِ وفا پہ جیتا ہے

وہ کم نصیب کہ شائستۂ جفا بھی نہیں

نگاہِ ناز، عبارت ہے زندگی جس سے

شریکِ درد تو کیا، درد آشنا بھی نہیں

Saturday, 29 May 2021

ہنستے یاروں کی دلآزاری نہیں ہو سکتی

 ہنستے یاروں کی دلآزاری نہیں ہو سکتی

دل! ابھی تیری عزاداری نہیں ہو سکتی

طیش میں بات کوئی ذہن میں بیٹھے گی کہاں

سخت موسم میں شجر کاری نہیں ہو سکتی

آنکھ باقی ہے مگر ذوقِ نظر خرچ ہوا

جیب خالی سے خریداری نہیں ہو سکتی

Friday, 28 May 2021

حق ہے تجھے جسے بھی تو چاہے غلط سمجھ

 حق ہے تجھے جسے بھی تُو چاہے غلط سمجھ

کم تر مگر کسی کو مِرے یار مت سمجھ

چلتا ہے کاروبارِِ وفا اعتبار پر

جو کہہ دیا گیا ہے اسے دستخط سمجھ

پسپا ہوئے محاذ سے ہم جان بُوجھ کر

یہ بُزدلی نہیں ہے اسے مصلحت سمجھ

Thursday, 27 May 2021

یہ راز شاید آپ کے ادراک میں نہیں

 یہ راز شاید آپ کے ادراک میں نہیں

انسان گفتگو میں ہے، پوشاک میں نہیں

کیا رنگ روپ ہیں کہ جو اِس خاک میں نہیں

اب گردشیں مگر وہ تِرے چاک میں نہیں

کیونکر کوئی سنبھال کے رکھتا ہمیں بھلا

شامل جو ہم کسی کی بھی اِملاک میں نہیں

Tuesday, 25 May 2021

خیر سے آپ جو جذبات میں آئے ہوئے ہیں

 خیر سے آپ جو جذبات میں آئے ہوئے ہیں

ہم بھی ایسے ہی تھے، اوقات میں آئے ہوئے ہیں

خرچ کیجے مگر، اصراف مناسب تو نہیں

مان لیتے ہیں کہ خیرات میں آئے ہوئے ہیں

آ کسی روز اسے تھوڑی نصیحت کر جا

وسوسے کچھ دلِ کم ذات میں آئے ہوئے ہیں

Monday, 24 May 2021

شور ہے گیت جو لے سے نہ ہم آہنگ رہے

 شور ہے گیت جو لَے سے نہ ہم آہنگ رہے

تودۂ خاک ہے تن، روح نہ گر سنگ رہے

یہ الگ بات کہ وہ اگلے نہیں ڈھنگ رہے

کیسے ممکن ہے محبت نہ رہے جھنگ رہے

تپشِ خواب کہیں نیند کو ہی چاٹ نہ لے

دیر تک دھوپ میں کب شوخ کوئی رنگ رہے

Tuesday, 16 March 2021

پھیلتا جاتا ہے دریا کا کنارہ کافی

 پھیلتا جاتا ہے دریا کا کنارہ کافی

میری مٹی ابھی سہنا ہے خسارہ کافی

کُھل کے ہوتی نہیں ہر بات بتانے والی

صاحبِ فہم کو ہوتا ہے اِشارہ کافی

کہکشاؤں پہ تسلط کی ہوس میں گُم ہے

ذرۂ خاک کو تھا ایک ستارہ کافی