ہم نفس جب لکیر کھینچتے ہیں
لوگ لفظوں کے تیر کھینچتے ہیں
لڑکھڑاہٹ سرشت میں کب تھی
دل کو تجھ ایسے پِیر کھینچتے ہیں
خیمۂ شب کی ڈوریوں کو صنم
یہ تمہارے اسیر کھینچتے ہیں
ہم نفس جب لکیر کھینچتے ہیں
لوگ لفظوں کے تیر کھینچتے ہیں
لڑکھڑاہٹ سرشت میں کب تھی
دل کو تجھ ایسے پِیر کھینچتے ہیں
خیمۂ شب کی ڈوریوں کو صنم
یہ تمہارے اسیر کھینچتے ہیں
دیکھ کر مجھ کو مِری شوخ بڑی ہنستی ہے
مجھ سے اک شعر کی دوری پہ کھڑی ہنستی ہے
خود کو آواز جو دیتا ہوں تِرے لہجے میں
میرے کمرے میں ہر اک چیز پڑی ہنستی ہے
تیرا مہجور تو بس تیری خوشی میں خوش ہے
سرِ مژگان سو اشکوں کی لڑی ہنستی ہے
دن کے برزخ سے شب نکالی ہے
اس لیے ذہن خالی خالی ہے
آس کے نا مراد کوٹھے پر
صبح نیلام ہونے والی ہے
ارغوانی غبار کی تہہ سے
میری بے چہرگی مثالی ہے
ممکن نہیں وہ شاخ ثمر بار رہی ہو
جو باغ کے ماحول سے بیزار رہی ہو
اس آنکھ کے کوزے میں سمٹ آتی ہے دنیا
جو گردشِ ایام میں بیدار رہی ہو
واقف ہوں تِری ذات کے ہرطرز ہنر سے
جیسے کہ مِری زیست کا کردار رہی ہو
دیکھ کر مجھ کو مِری شوخ بڑی ہنستی ہے
مجھ سے اک شعر کی دوری پہ کھڑی ہنستی ہے
خود کو آواز جو دیتا ہوں تِرے لہجے میں
میرے کمرے میں ہر اک چیز پڑی ہنستی ہے
تیرا مہجور تو بس تیری خوشی میں خوش ہے
سرِ مژگان سو اشکوں کی لڑی ہنستی ہے
آلامِ روزگار میں جیون بسر ہوا
میرا مکاں، مکان رہا ہے نہ گھر ہوا
بدلے ہوئے ہیں اب تو مِرے خد و خال بھی
کیا میں تِرے مزاج کا اے کوزہ گر! ہوا
ہر دائرے کے گِرد ہے اک اور دائرہ
مرضی سے جی سکا ہوں نہ مرضی سے مر ہوا
راستے اب بے تکلف ہو رہے ہیں کس لیے
کٹ گیا سارا سفر تو اور جُوتے گِھس لیے
کون جھیلے گا کہ جیسے جھیلتا آیا ہوں میں
آگ برساتی نگاہیں اور لہجے بِس لیے
ہر طرف سے مل رہی ہیں کیوں مبارکبادیاں
اپنا رونا رو لیا کیا، زخم کُھل کر رِس لیے