Showing posts with label شہیر تہامی. Show all posts
Showing posts with label شہیر تہامی. Show all posts

Tuesday, 8 August 2023

ہم نفس جب لکیر کھینچتے ہیں

 ہم نفس جب لکیر کھینچتے ہیں

لوگ لفظوں کے تیر کھینچتے ہیں

لڑکھڑاہٹ سرشت میں کب تھی

دل کو تجھ ایسے پِیر کھینچتے ہیں

خیمۂ شب کی ڈوریوں کو صنم

یہ تمہارے اسیر کھینچتے ہیں

Saturday, 26 March 2022

دیکھ کر مجھ کو مری شوخ بڑی ہنستی ہے

 دیکھ کر مجھ کو مِری شوخ بڑی ہنستی ہے

مجھ سے اک شعر کی دوری پہ کھڑی ہنستی ہے

خود کو آواز جو دیتا ہوں تِرے لہجے میں

میرے کمرے میں ہر اک چیز پڑی ہنستی ہے

تیرا مہجور تو بس تیری خوشی میں خوش ہے

سرِ مژگان سو اشکوں کی لڑی ہنستی ہے

Saturday, 5 March 2022

دن کے برزخ سے شب نکالی ہے

 دن کے برزخ سے شب نکالی ہے

اس لیے ذہن خالی خالی ہے

آس کے نا مراد کوٹھے پر

صبح نیلام ہونے والی ہے

ارغوانی غبار کی تہہ سے

میری بے چہرگی مثالی ہے

Friday, 4 March 2022

ممکن نہیں وہ شاخ ثمربار رہی ہو

 ممکن نہیں وہ شاخ ثمر بار رہی ہو

جو باغ کے ماحول سے بیزار رہی ہو 

اس آنکھ کے کوزے میں سمٹ آتی ہے دنیا

جو گردشِ ایام میں بیدار رہی ہو 

واقف ہوں تِری ذات کے ہرطرز ہنر سے

جیسے کہ مِری زیست کا کردار رہی ہو

Tuesday, 22 February 2022

دیکھ کر مجھ کو مِِری شوخ بڑی ہنستی ہے

 دیکھ کر مجھ کو مِری شوخ بڑی ہنستی ہے

مجھ سے اک شعر کی دوری پہ کھڑی ہنستی ہے

خود کو آواز جو دیتا ہوں تِرے لہجے میں

میرے کمرے میں ہر اک چیز پڑی ہنستی ہے

تیرا مہجور تو بس تیری خوشی میں خوش ہے

سرِ مژگان سو اشکوں کی لڑی ہنستی ہے

Monday, 21 February 2022

آلام روزگار میں جیون بسر ہوا

 آلامِ روزگار میں جیون بسر ہوا

میرا مکاں، مکان رہا ہے نہ گھر ہوا

بدلے ہوئے ہیں اب تو مِرے خد و خال بھی

کیا میں تِرے مزاج کا اے کوزہ گر! ہوا

ہر دائرے کے گِرد ہے اک اور دائرہ

مرضی سے جی سکا ہوں نہ مرضی سے مر ہوا

Wednesday, 16 February 2022

راستے اب بے تکلف ہو رہے ہیں کس لیے

 راستے اب بے تکلف ہو رہے ہیں کس لیے

کٹ گیا سارا سفر تو اور جُوتے گِھس لیے

کون جھیلے گا کہ جیسے جھیلتا آیا ہوں میں

آگ برساتی نگاہیں اور لہجے بِس لیے

ہر طرف سے مل رہی ہیں کیوں مبارکبادیاں

اپنا رونا رو لیا کیا، زخم کُھل کر رِس لیے